30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاقر واحد منھم باخ اٰخر ونحوہ لایثبت نسبہ ولا یرث معہم ولو اقرمنھم رجلان اورجل وامرأتان یثبت نسبہ بالاتفاق،ولو کان الوارث واحدا فاقر بہ یثبت عند ابی یوسف خلافا لابی حنیفۃ ومحمد وبقول ابی یوسف اخذ الکرخی اھ وظاہر المتون علی ترجیح قولھما کما لایخفی اھ قرۃ العیون[1] ج ۲ص۱۳۱۔ |
بھائی کے متعلق اقرارکرنے سے اس بھائی کی نسب ثابت نہ ہوگی اور باقی ورثاء کے حصو ں میں شریك نہ ہوگا اور اگر ان ورثاء میں سے دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں اقرار کریں تو پھر باتفاق نسب ثابت ہوجائے گا اور اگر ایك ہی وارث اقرار کرے تو امام ابویوسف کے نزدیك نسب ثابت ہوگا بخلاف امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اﷲ،امام ابویوسف کے قول کو امام کرخی نے لیا ہے جبکہ ظاہر متون نے صاحبین کے قول کو ترجیح دی ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔قرۃ العیون جلد ۲ص ۱۳۱(ت) |
چونکہ صورت مقدمہ میں بدر الدین کے ساتھ دوسرا وارث سراج الدین ہے تو اقرار بدر الدین اکیلے کابموجب روایت امام ابویوسف بھی مثبت نسب نہ ہوگا،ہر دو تحریرات مولوی نور الدین قابل اعتبار نہیں کیونکہ ان تحریرات سے نہیں جو شرعًا حجت ہو،باقی رہا اقرار بحق جائداد تو اقرار بدرالدین سے ضرور شرکت فی الوراثۃ اس کے حق میں ثابت ہے سراج الدین کا قول روبروئے تحصیلدار بظاہر تسلیم صلحنامہ بحق جائداد ہے وبلحاظ استقلال کلام وعدم ضمیر راجع کلام مستانف ہوگی مبنی براقرار نہ ہوگی،بہر حال شرکت فی الوراثت در کل جائداد یا درحصہ بدر الدین بموجب ضمانت وثابت ہوگی اور بموجب صلحنامہ اقرار بدر الدین مستحق وراثت علی حسب صلحنامہ ہوں گے۔خادم الشرع عطا محمد مدرس پھوگا نوالا بقلم خود فقط۔
(۲۰)رپورٹ ثالثان مشمولہ مسل نمبر ۱۶۔گزارش ہے کہ سوائے تحقیقات جدید کے مظہران فیصلہ نہیں کرسکتے اور اب تحقیقات جدید کا موقع نہیں رہا کہ احمد شاہ مدعا علیہ نے محکمہ پریذ یڈنٹی میں واسطے منسوخی ثالثان کے عرضی دی ہے اور بیان کیا ہے کہ مسل واسطے ملاحظہ کے محکمہ مذکور الصدر میں طلب کی گئی ہے اس واسطے تحقیقات جدید ملتوی کی گئی پھر جب حکم ہو تحقیقات کی جائیگی ۲۱/ جون ۱۹۰۸ء العبد اﷲ بخش چك نادر شاہی،العبد عطا محمد مدرس عربیہ پھوگا نوالا،العبد عبدالرحیم اول مدرس عربیہ مہاران شریف۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع