30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ظاہر ہے کہ شہادات مندرجہ مسل میں لفظ اشھد یا اس کے ہم معنی کا کہیں نام ونشان نہیں لہذایہ شہادات قبول کرنا شرعًا ناجائز ہے۔امر ثانی اقرار صدر الدین مع نقل رواج عام میں یہ اعتراض ہے کہ دفاتر سلطانیہ سجلات محاضر کے امور مندرجہ تب حجت ہوتے ہیں کہ ان کے یا محافظ دفتروں کے ہاتھ محفوظ رہیں۔اگر فریقین مقدمہ یا اجنبی کے ہاتھ میں آجائیں تو حجت نہیں ہوتے۔شامی جلد ۴ص۳۲۱:
|
سجل القاضی لایزورعادۃ حیث کان محفوظا عند الامناء بخلاف ماکان بید الخصم[1]۔ |
قاضی کے دفتری امور کے کاغذات جعل سازی سے عادۃ اس وقت محفوظ ہوتے ہیں جب وہ امین لوگوں کے پاس محفوظ ہوں بخلاف جب وہ مخالف فریق کے ہاتھ میں ہوں۔(ت) |
چونکہ نقل رواج عام بذریعہ مدعیان پہنچی اور اصل سجل کا ملاحظہ نہ ہوا حجت شرعی نہ ہوگی۔امر ثالث صلحنامہ میں یہ اعتراض ہے کہ فقط اقرار بدر الدین بہ ثبوت نسب ثابت ہوتا ہے سراج الدین کا اقرار بہ نسب کسی جگہ سے ثابت نہیں،پس اقرار ایك بدر الدین بموجودگی سراج الدین مثبت نسب نہیں ہوسکتا۔تنویر الابصار:
|
لو اقر رجل بنسب فیہ تحمیل علی غیرہ لا یصح الاقرار،ومن مات ابوہ فاقر باخ شارکہ فی الارث ولم یثبت نسبہ[2]۔(ملخصًا) |
اگر ایك شخص کسی کے نسب کا اقرار کرے جس سے دوسرے کے حصہ پر زد پڑے تو یہ اقرارصحیح نہ مانا جائے گا،اگر کسی کا والد فوت ہوا اور اپنے بھائی کا اقرار کرے تو یہ بھائی اس کے ساتھ وراثت میں شریك ہوگا لیکن اس ایك کے اقرار سے والد سے نسب ثابت نہ ہوگا(ملخصا)۔(ت) |
عبارت قرۃ العیون سے مطلب مولوی صاحبان ثابت نہیں،عبارت مذکورہ سے مقصود بیان اس صورت کاہے کہ مقروارث واحد ہوکہ اس کے ساتھ کوئی وارث نہ ہوا،اگر وارث دیگر ہوتو ثبوت نسب اقرار واحد شخص سے بموجب روایت امام ابویوسف بھی نہیں ہوسکتا۔خود قرۃ العیون کی اس سطر سے پہلے ملاحظہ فرمائیے:
|
قال فی البدائع ان الوارث لو کان کثیرا |
بدائع میں فرمایا اگر ورثاء کثیر ہوں تو ایك کے کسی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع