30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رکنہا لفظ اشھد لاغیر لتضمنہ معنی مشاہدۃ وقسم واخبار للحال فکانہ یقول اقسم باﷲ لقد اطلعت علی ذٰلك وان اخبربہ وھذہ المعانی مفقودۃ فی غیرہ فتعین[1]۔ |
شہادت کارکن لفظ شہادت ہے دوسرا کوئی لفظ رکن نہیں کیونکہ یہ لفظ مشاہدہ کے معنی اور قسم اور حال کی خبر کو متضمن ہے گویا کہ گواہ نے یوں کہا کہ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے اس واقعہ پر اطلاع پائی میں اس کی خبر دیتا ہوں کہ جبکہ یہ معانی کسی دوسرے لفظ میں نہیں پائے جاتے لہذا یہی لفظ شہادت متعین ہوگا۔(ت) |
ردالمحتارمیں ہے:
|
ولایخلو عن معنی لتعبد اذلم ینقل غیرہ[2]۔ |
اور شہادت عباد ت سے خالی نہیں جبکہ شارع کی طرف سے دوسرا کوئی لفط اس عبار ت میں منقول نہیں ہوا(ت) |
تنویر الابصار:
|
لزم فی الکل لفظ اشھد بلفظ المضارع بالاجماع لقبولھا والعدالۃ لوجوبہ[3]۔ |
تمام گواہیوں میں اشھد کا لفظ مضارع بالاجماع لازم ہے قبولیت کےلئے اور گواہوں کی عدالت وجوب کی بناء پر ضروری ہے(ت) |
قرۃ العیون میں ہے:
|
حتی لو قال اعلم او اتیقن لاتقبل شہادتہ لان النصوص ناطقۃ بلفظ الشہادۃ فلا یقوم غیرہا مقامھا[4]۔ |
حتی کہ اگر گواہ نے"میں جانتا ہوں"یا"یقین رکھتا ہوں" کہہ دیا تو قبول نہ ہوگا کیونکہ تمام نصوص لفظ الشہادۃ کو بیان کررہی ہیں اس کی جگہ دوسرا لفظ قائم مقام نہ بنے گا(ت) |
مولوی اسحٰق دہلوی کا غیر ضروری کہنا اشھد کو مخالف نصوص فقہاء وماثور ہے اور بس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع