30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اورجلا وامرأتین فصاعدایثبت النسب باقرار ھم بالاجماع لکمال النصاب و یستحق حظہ من نصیب المقر [1]اھ حموی ۱۲قرۃ العیون۔ |
ایك سے زائد ورثاء مثلًا دو مرد یا ایك مرد اور دو عورتیں کسی کے وارث ہونے کا اقرا رکریں تو اس اقرار سے نسب بالا جماع ثابت ہوجائے گا کیونکہ شہادت کا نصاب کامل ہے اور اقرار کرنے والوں کے حصہ میں یہ بھی شریك ہوگا اھ ۱۲حموی قرۃ العیون(ت) |
مولوی نور الدین صاحب نکاح خوان کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ بوقت نکاح ثانی مدعیان موجود تھے اور دوسری تحریر میں ہے کہ نکاح مشہور سے پہلے پیر صدر الدین کا نکاح مخفی والدہ مدعیان کے ساتھ تھا ہر نکاح مخفی جو روبروئے گواہان کے ہو معلن ہوجاتا ہے اور شرعًا جائز نافذ ہے باپ نے جب اقرار کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے اور ماں اس کی آزاد ہے تو یہ اقرار فرزندی اقرار ہوگا اس عورت کے منکوحہ ہونے پر۔درمختار،طحطاوی،قنیہ ۱۲ نور الہدایہ العبد عبدالرحیم اول مدرس عربی خانقاہ مہاران شریف، اﷲ بخش چك نادر شاہی،احقر العباد جمال الدین بقلم خود۔
(۱۹)فتوٰی مولوی عطا محمد مشمولہ مسل نمبر ۱۶۔ملاحظہ مسل سے ظاہر کہ مدعیان نے بابت اثبات نسب ووراثت تین امر پیش
کئے،ایك شہادت،دوسرا اقرار پیر صدر الدین بذریعہ نقل رواج عام جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد موجودہ صدر الدین ازرنگ بھری وارث ہوں گے اس رواج عام پر مہر صدر الدین بھی ہے گواس میں نام اﷲ بخش والٰہی بخش نہیں لیکن اولاد بحسب الظاہر رنگ بھری و صدر الدین بغیر ان دونوں کے اور کوئی نہیں لہذا ضرورۃً یہی تصور کئے جائیں گے،تیسرا صلحنامہ جس میں بدر الدین کی طرف سے اقرار صریح ہے لیکن اقرار سراج الدین نہیں ثابت ہوتا کہ سراج الدین موقع پر نہ تھا۔ایسا ہی کسی اور جگہ مسل مقدمہ سے اقرار سراج الدین ثابت نہیں جس وقت تحصیلدار منچن آباد نے مخاطب ہوکر فرمایا تم کو اس ایزادی میں کوئی عذر ہے تو سراج الدین نے بیان کیا کہ کوئی عذر نہیں،اس سے تسلیم صلحنامہ بحق جائداد ثابت ہوتا ہے نہ بحق ثبوت نسب جیسا کہ استفہام تحصیلدار وجواب سے ظاہر ہوتا ہے۔لیکن احقر کو بہ نسبت ہر ایك امران تینوں میں سے بحق ثبوت نسب اعتراض ہے۔امر اول شہادت۔رکن شہادت شرع شریف میں لفظ اشھد یا اس کا ہم معنی چنانچہ گواہی میدہم ہے۔درمختار:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع