دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

کچھ انکار نہ ہوگا اگر انکا شرعًا نسب ثابت نہ ہو تو پھر ان کا میراث سے کچھ تعلق نہ ہوگا اور بشرط اولاد صحیح النسب ہونے کے فتوائے ثالثان ناطق ہوگا اور ہمیں کچھ عذر نہ ہوگا،۱۸جون ۱۹۰۸ء،بمقام صادق پور روبرو افسر صاحب مال مولوی عبدالمالک۔العبد بخش مدعی بقلم خود،العبد الٰہی بخش مدعی بقلم خود،العبد احمد شاہ مدعا علیہ بقلم خود۔تحریر ہوا کہ مولوی صاحبان تمام موضع چك بھوگا نوالہ میں جمع ہوکر بموجب روائداد مسل کے فتوی دیں۔امو رتنقیح بحث طلب یہ ہیں کہ آیا مدعیان پیر صدر الدین کی اولاد صحیح النسب ہے یانہیں۔دوسرا راضی نامہ مصدقہ ضلع منٹگمری کا شرعًا کیا اثر ہے۔فیصلہ کثرت رائے ثالثان پر کیا جائے گا فتوٰی چار یوم کے اندر داخل ہو،۱۸/جون۱۹۰۸ء دستخط افسر مال۔

(۱۸)فتوٰی مولوی عبدالرحیم وغیرہ مشمولہ مسل نمبری ۱۶۔مدعیان نے ایك صلحنامہ از جانب والد و چچا مدعا علیہما پیش کیا جس میں صریح لکھا ہے کہ مدعیان پیرصد ر الدین کے بیٹے ہیں۔علاوہ بریں معتبر شہادت سے ثابت ہے کہ پیر صدرالدین مورث مدعیان کو اپنا بیٹا تسلیم کرتا تھا بدر الدین وسراج الدین نے تحصیل میں بھی مدعیان کو اپنے بھائی پیر صدر الدین کے بیٹے قرار دے کر لکھوایا ہے کہ بیشك حسب مضمون صلحنامہ ریاست میں بھی ملکیت کا عملدر آمد ہوناچاہئے۔علاقہ آنروے آب میں بھی پٹواری کے سامنے سراج الدین و بدر الدین نے مدعیان کو اپنے بھائی لکھوائے ہیں۔رواج عام اقوام چشتی اور شجرہ نسب جو ضلع منٹگمری میں لکھا ہے مدعیان پیر صدر الدین کی اولاد اور وارث لکھے ہیں اور اس پر پیر صدر الدین اور بعض شاہدان نفی نسب کے ثبوت نسب پر مواہیر موجود ہیں شہادت مدعا علیہما نفی پر مشتمل ہیں اور شہادت نفی مقبول نہیں ہوتے۔پس بوجہ اقرار پیر صدر الدین بولدیت مدعیان اور تسلیم بدر الدین وسراج الدین اخوت مدعیان کو فتوٰی شرعی یہ ہے کہ مدعیان کا نسب پیر صدر الدین سے ثابت ہے۔

اذا اقر وارث واحد بوارث کمن ترك ابنا فاقر باخ لا یثبت نسبہ عند ھما وقال ابویوسف یثبت وبہ اخذ الکرخی لانہ لما قبل فی المیراث قبل فی النسب وان کان اکثر من واحد بان کان رجلین

جب ایك وارث دوسرے کے وارث ہونے کا اقرار کرے جیسا کہ میت کا بیٹا اپنے بھائی کا اقرا رکرے تو شیخین رحمہما اﷲ تعالٰی کے نزدیك بھائی کا نسب ثابت نہ ہو گا اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا یہ نسب ثابت ہوجائے گا اور امام کرخی نے اسی کواختیار کیا ہے کیونکہ ایك کے اقرار سے جب وارث ہونا ثابت ہوجاتا ہے تو نسب میں اس کا قول تسلیم کیا جائے گا اور

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن