30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے تھے بدرالدین وسراج الدین پیر مرحوم کی کچھ جائداد علاقہ ریاست بہاولپور اور کچھ پاکپٹن شریف علاقہ انگریزی میں حسب تفصیل ذیل تھی:
علاقہ ریاست: واڑہ پیران کل،چك قمر الدین نمبر۳۴۴حصہ سوم،بلاڑہ پیرنبی بخش حصہ سوم،بلاڑہ صدر الدین کل۔
علاقہ انگریزی: واڑہ پیران کلاں،بلاڑہ پیران حصہ سوم،شیخوپورہ ملکیت ایك چاہ۔
صدر الدین نے ۱۳ /شوال ۱۳۰۹ھ مطابق ۱۱/مئی ۱۸۹۲ء میں انتقال کیا اﷲ بخش والٰہی بخش نے اپنے آپ کو پسران متوفی قرار دے کر ضلع منٹگمری میں بعض جائداد واقع علاقہ انگیزی کا داخل خارج چاہا،جون ۱۸۹۲ء میں عنایت اﷲ پٹواری کے سامنے بدرالدین و فریق دوم کے بیانات ہوئے جن میں بدرالدین نے ان کے پسران صدر الدین ہونے سے انکار اور انہوں نے اس کا اظہار کیا شیخ لطافت علی نائب تحصیلدار نے ۲۷ستمبر۱۸۹۲ء کو ایك نقل رواج عام اقوام چشتی کے بناء پر جو بغرض ملاحظہ حاضر ہے چاروں کو فرزندصدر الدین قرار دے کر اندراج نام کا حکم دیا بدرالدین نے منشی عزیز الدین اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کے یہاں اپیل کی بالآخر تنہا بدرالدین نے کسی دباؤ یا مصلحت سے راضی نامہ کرلیا جس میں کل جائدا ہر دو علاقہ کا ذکر ہے مگر جب مجوز نے بدرالدین کا بیان لیا تو اس نے صرف جائداد علاقہ انگریزی کی نسبت تصفیہ ہونا بیان کیا اور فریق دوم نے بھی اس کا یہ بیان سن کر تسلیم کیا اس بناء پر ۲۵/ فروری ۱۸۹۳ء کو وہ مقدمہ وہاں فیصل ہوگیا جائداد واقع علاقہ انگریزی کے ۲/ ۵ نام اﷲ بخش والٰہی بخش اور ۳/۵ میں نام سراج الدین وبدرالدین مندرج ہوا،سراج الدین اس راضی نامہ میں شریك نہ تھا،نہ وہ وہاں موجود تھا مگر بدرالدین نے اس اظہار سے کہ وہ میرا حقیقی بھائی ہے میرا اس کا نفع نقصان مشترك ہے اس کی طرف سے راضی نامہ کرلیا،اس صلح نامہ کی بناء پر فریق ثانی نے یکم جون ۱۸۹۳ء کو جائداد واقع ریاست کے داخل خارج کی بھی درخواست تحصیل منچن آباد میں دی جس کی کارروائی ملاحظہ کاغذات سے ظاہر ہوگی جس میں بیان کیاجاتا ہے کہ بدرالدین و سراج الدین نے ۲۲/اگست ۱۸۹۳ء کو دعوٰی اﷲ بخش و الٰہی بخش تسلیم کیا اور ۳ / اکتوبر ۱۸۹۳ء کو کاردار نے حکم دیا کہ محکمہ بندوبست میں درخواست دے کر اندراج نام کرالیں لیکن انہوں نے کوئی درخواست نہ دی نہ اندراج نام ہوااس وقت کا بندوبست جاری تھا بلکہ دسمبر ۱۸۹۲ء میں ختم ہوچکا تھا بجائے اس کے ۲۹/دسمبر ۱۸۹۸ء کو فریق ثانی نے پھر اسی تحصیل منچن آباد میں درخواست اندراج نام دی جو ۲۳/ مارچ ۱۸۹۹ء کو بوجہ عدم پیروی خارج ہوئی جب ۱۹۰۶ء میں بندوبست جدید ہوا مدعیوں نے یہاں چارہ جوئی کی ۲۵/جون ۱۹۰۶ء کو داخل خارج منظور ہوکر ۶جنوری ۱۹۰۷ کو محکمہ مشیرت مال سے منسوخ ہوگیا ناچار ۲۷/ مئی۱۹۰۷ءکو مدعیان نے نظامت بہاولپور میں نالش دخلیابی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع