30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گواہ دے سکتا ہے اور ان کا سننا حاکم پر فرض ہے اگر وہ نہ سنے تو دوسرے محکمہ میں اس کے گواہ سنے جائیں۔معین الحکام میں ہے:
|
المواضع التی تصرفات الحکام فیہا لیست بحکم ولغیر ھم من الحکام تغییرھا والنظر فیہا علی انواع کثیرۃ وانا اذکر عشرین نوعا[1] (الی ان قال)النوع التاسع التصرف فی انواع الحجاج بان یقول لااسمع البینۃ لانك حلفت قبلہا مع علمك بھا وقدرتك علی احجارھا فلغیرہ من الحکام ان یفعل ماترکہ[2]۔ |
وہ مقامات جہاں حکام کے تصرفات،حکم وفیصلہ نہیں بنتے اور دوسرے حکام کو ان میں تبدیل اور غور کا اختیار ہے،یہ کثیر اقسام ہیں اور میں بیس اقسام ذکر رکرہاہوں،اور آگے فرمایا، نویں قسم،بحث کی انواع میں تصرف ہے،یوں کہ قاضی کہے کہ میں تیرے گواہوں کی شہادت نہ سنوں گا کیونکہ قبل ازیں تو گواہوں کے جاننے اور ان کو پیش کرنے پر قدرت کے باوجود قسم دے چکا ہے،تو اس حکم کو تبدیل کرنے کا دوسرے حکام کو اختیار ہے۔(ت) |
حاکم اپیل کو اختیار ہے کہ خود گواہ سنے اور مقدمہ حسب شرع ترتیب دے یا محکمہ ابتدائی کو واپس بھیجے کہ بعد تکمیل شرعی واسماع گواہان مدعی وہاں فیصل ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۹۴:ازریاست بہاولپور پنجاب تحصیل منچن آباد ڈاکخانہ صادق پور موضع واڑہ سراج الدین مرسلہ پیر نور محمد صاحب ولد پیر قمر الدین صاحب ذات چشتی ۳/ رجب المرجب ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیر صدر الدین نے ۱۶۸۶ھ میں ایك طوائف مسماۃ رنگ بھری سے نکاح کیا اس وقت رنگ بھری کے دو نابالغ بیٹے اﷲ بخش والٰہی بخش موجود تھے اور تیسرا جوان بیٹا اﷲ دتا تھا صدر الدین نے وقت نکاح مذکور سے رنگ بھری کو مثل ازواج کے پردے میں رکھا جب تك وہ بے پردہ اپنے پیشہ حرام میں تھی،یہ دونوں بچے کہ خورد سال تھے ماں کے ساتھ پیر مرحوم کے یہاں رہے جن میں ایك کی شادی بھی پیر موصوف نے کردی رنگ بھری کا بڑا بیٹا اب تك الگ اور اپنے پیشہ حرام میں ہے صدر الدین مرحوم کے دو بیٹے زوجہ خاندانی مسماۃ نور سائن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع