30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہدایہ و بحرالرائق میں ہے:
|
لقولہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر قسم و القسمۃ تنافی الشرکۃ[1]۔ |
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق،گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم انکار کرنے والے کے ذمہ،یہ تقسیم ہے اور تقسیم اشتراك کے منافی ہے۔(ت) |
پھر تجویز میں فرمانا کہ"ان کے اظہارات کے ملاحظہ سے ثابت ہے کہ دروازہ مدعا علیہ بدستور جائے قدیم پر ہے اور مدعی نے جو دیوار خود تعمیر کی ہے بجائے بنیاد قدیمی تعمیر کی ہے"صراحۃًشہادت علی النفی کا قبول کرنا ہے،دروازہ مدعا علیہ جائے قدیم پر ہونے کا اسی قدر حاصل کہ مدعا علیہ نے ملك مدعی میں کوئی تصرف نہ کیا،یونہی دیوار مدعی بجائے بنیاد قدیم تعمیر ہونے کا اسی قدر محصل کہ مدعی نے کوئی آبچك نہ چھوڑی جس میں مدعا علیہ تصرف کرتا،تو یہ صاف صاف نفی پر شہادتیں تھیں کہ اعتبار معنی کا ہے نہ کہ لفظ کا۔ہدایہ وکافی وبحر وغیرہما میں ہے:
|
الاعتبار للمعانی دون الصور فان المودع اذاقال رددت الودیعۃ فالقول قولہ مع الیمین وان کان مدعیا للرد صورۃ لانہ ینکر الضمان[2]۔ |
معانی کا اعتبار ہے صورتوں کا نہیں،کیونکہ جب امانت رکھنے والاکہے کہ میں نے امانت واپس کردی ہے تو اس کی بات قسم کے ساتھ مان لی جائے گی اگرچہ صورتًا وہ واپس کرنے کا دعوٰی کررہا ہے،وجہ یہ ہے کہ واپسی کا دعوٰی کرکے اپنے ذمہ سے ضمان کا انکارکررہا ہے۔(ت) |
بلکہ یہاں معنیً وصورۃً ہر طرح نفی ہے کہ قدم خود مفہوم سلبی ہے یعنی حادث وجدید نہ ہونا۔بالجملہ جس قدر کارروائی اس مقدمہ میں واقع ہوئی سب محض بیکار و بے اثر و بیگانہ و بے ثمر ہوئی۔میں نہیں کہتا کہ غلط فیصلہ ہوا،یہ تو جب کہا جائے کہ فیصلہ ہوا ہواور اس میں خطا ہو۔یہاں تو سرے سے فیصلہ ہواہی نہیں،یہ تجویز جس کانام عوام میں فیصلہ رکھاجائے ہرگز فیصلہ ہی نہیں،ایك کاغذ سادہ ہے کہ فیصلہ کے چھ رکن شرع مطہر نے مقرر فرمائے اور یہاں رکن ششم معدوم ہے اور بغیر رکن کے وجود شیئ محال جس کی تصریحیں ابھی کتب معتمدہ سے گزریں تو مقدمہ ہنوز رو ز اول پر ہے مدعی بلا شبہہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع