30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوی قاضی خاں پھر بحرالرائق پھر فتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
انما ینفذ القضاء عند شرائطہ من الخصومۃ وغیرہا فاذالم توجد لم ینفذ[1]۔ |
کسی مقدمہ وغیرہ میں فیصلہ اپنی شرائط پائے جانے پر نافذ ہوگا،جب تمام شرائط نہ پائے جائیں تو نافذ نہ ہوگا(ت) |
نیزفتاوٰی علامہ خیرالدین رملی میں ہے:
|
صرح فی البحر فی مواضع متعددۃ انہ لایعمل بالتنافیذ الواقعۃ فی زماننا لعدم استیفا ئھا الشرائط الحکمیۃ التی نص علیہا ابن الغرس فی الفواکہ البدریۃ بقولہ حکم ومحکوم بہ ولہ ومحکوم علیہ وحاکم وطریق[2] |
بحر میں متعدد مواضع پر تصریح ہے کہ ہمارے زمانہ میں نافذ اکثر فیصلے قابل عمل نہیں کیونکہ ان میں فیصلہ کی تمام شرطیں جمع نہیں جن کو ابن الغرس نے فواکہ البدریہ میں یوں بیان کیا ہے:حکم،محکوم بہ،لہ و محکوم علیہ و حاکم وطریق۔ |
یہاں تین چیزوں یعنی بینہ،اقرار،نکول کا نہ ہونا خود مجوز کو تسلیم اور چوتھی یعنی یمین کا نہ ہونا بھی واضح۔نہ مدعی نے طلب حلف کیا نہ حاکم نے مدعا علیہ سے حلف مانگا نہ مدعا علیہ نے حلف کیا تو بغیر اصلا کسی طریق شرعی کے مجوز کو فیصلہ کردینے کا کیا اختیار تھا ایسا ہی اختیار فرض کیا جائے تو دعوٰی پیش ہوتے ہی تحریر فرمادینا تھا کہ حکم ہوا کہ دعوٰی مدعی نامسموع ہو آخر اس پر یہی تو الزام ہوتا کہ بلاوجہ شرعی دعوی نامسموع کیا وہ الزام اب بھی حاصل ہے تو زمین پیمائش کرانے اور مدعا علیہ کے دس گواہ سننے سے سوا تطویل لاطائل کے کچھ مفاد نہ ہوا جب شرعًا بیعنامہ میں گزوں کی تعداد لکھی کوئی حجت شرعیہ نہ تھی اور فی الواقع وہ اصلًا حجت نہیں تو پیمائش کرانی محض فضول ہوئی،شرع مطہر نے گواہ مدعی پر رکھے ہیں اور قسم مدعا علیہ پر تو مدعا علیہ یعنی منکر سے ثبوت انکار پر گواہ لینا کوئی معنی نہ رکھتا تھا حدیث میں ارشاد ہوا:
|
البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر[3]۔ |
گواہی مدعی کے ذمہ اور قسم منکر کے ذمہ ہے(ت) |
[1] فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۹
[2] فتاوٰی خیریہ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب ادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۴۔۲۳
[3] صحیح البخاری کتاب الرہن ۱ /۲۴۲ وجامع الترمذی ابواب الاحکام ۱ /۱۶۰ وسنن الدارقطنی نشر السنۃ ملتان ۴ /۲۱۸،نصب الرایہ کتاب الدعوٰی باب الیمین المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴ /۹۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع