30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یازید کو ہدایت واسطے پیش کرنے شہادت بالبینہ کے فرمانی لازم تھی؟ اور اب عدالت مرافعہ میں شہادت بالبینہ مدعی کہ جس کو اس نے عدالت ابتدائی میں پیش نہیں کیا ہے پیش کرسکتا ہے یانہیں؟جو واسطے حق رسی و انصاف کے ضروری ہے نقل فیصلہ ہمراہ اس استفتا کے پیش کی جاتی ہے۔
الجواب:
تجویز ملاحظہ ہوئی،ذی علم مجوز کا یہ فرمانا کہ"ثبوت دعوٰی کا بینہ سے ہوتا ہے یا اقرار مدعا علیہ سے یا نکول عن الحلف سے یہاں ان تین وجوہ شرعیہ سے کوئی نہیںـ"بہت صحیح ہے مگر ساتھ ہی یہ لحاظ بھی ضرور تھا کہ جس طرح ثبوت دعوٰی بغیر ان تین کے نہیں ہوسکتا یوں ہی قضائے قاضی بھی بغیر ان تین اور چوتھی یمین کے ناممکن ہے ان تین سے کوئی ہو تو مدعی کو ڈگری دے اور ان کے بدلے مدعا علیہ کی یمین ہو تو ڈسمس(Dismiss)کرے اور چاروں نہ ہوں تو حاکم ڈگری،ڈسمس کچھ نہیں کرسکتا اصلًا فیصلہ نہیں دے سکتا اور دے گا تو وہ فیصلہ بھی باطل و نامسموع ہوگا کہ حکم کے چھ ارکان ہیں ان میں سے جو رکن مفقود ہو حکم باطل ومردود ہے ان چھ میں ایك طریق حکم ہے اور وہ حقوق العباد میں انہیں چاراشیاء میں منحصر،تو جہاں ان میں سے کچھ نہ ہو طریق مسدود اور فیصلہ غلط و مردود۔درمختار میں ہے:
|
ارکانہ ستۃ علی نظمہ ابن الغرس بقولہ ؎ اطراف کل قضیۃ حکمیۃ ست یلوح بعدھا التحقیق حکم و محکوم بہ ولہ ومحکوم علیہ وحاکم وطریق[1] |
قاضی کے فیصلہ کے چھ رکن ہیں جن کو ابن الغرس نے اپنی نظم میں یوں بیان کیا ؎ ہر فیصلہ کے معاملہ میں چھ پہلو ہیں جن کے بعد تحقیق واضح ہوگی حکم،محکوم بہ،محکوم لہ، محکوم علیہ،حاکم اور وجہ حکم |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای لاتکون محلا لثبوت حق المدعی فیہا وعدمہ الا بالاستجماع ھذہ الشروط الستۃ،والطریق فیما یرجع الی حقوق العباد المحضۃ عبارۃ عن الدعوی والحجۃ وھی اما البینۃ اوالاقرار اوالیمین اوالنکول عنہ [2] اھ ملتقطا۔ |
یعنی کسی محل میں مدعی کے حق یا عدم حق کا ثبوت ان چھ شرطوں کے پائے جانے کے بغیر نہیں ہوسکتا اور خالص حقوق العباد میں فیصلے کا طریقہ،دعوٰی اور حجت یعنی گواہی یا اقرار یا قسم یا انکار قسم ہے،اھ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع