30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جامع الفصولین میں ہے:
|
فی دعوٰی الدیباج ھل یشترط ذکر الوزن الصحیح انہ یشترط وذکر فی"جف"انہ فی دعوی الدیباج والجوہر یشترط ذکر الوزن [1]۔ |
دیباج کے دعوٰی میں کیا وزن کا ذکر شرط ہے جبکہ صحیح یہ ہے کہ شرط ہے جامع الفتاوٰی میں ذکر کیا کہ دعوٰی دیباج اور جوہرمیں وزن کاذکر شرط ہے۔(ت) |
یہ سب اس صورت میں ہے کہ دعوی استرداد عاریت کا ہو اگر دعوٰی استہلاك کا تھا یعنی اتنا زیور اسے عاریۃً دیا تھا اس نے تلف کردیا تو اب یہ بعینہ دعوی غصب ہے اور اس کا حکم وہ ہے کہ اوپرمذکور ہوا،
|
وذٰلك لان الامانات تنقلب مضمونات بالتعدی والامین یعود بہ غاصبا۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
یہ اس لئے کہ امانتیں دخل اندازی کی بناء پر مضمون ہوجاتی ہیں اور امانت رکھنے والا غاصب قرار دیا جاتا ہے۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۹۳:ازریاست رامپور مرسلہ سید مسعود شاہ صاحب تحویلدار باورچی خانہ انگریزی ریاست رامپور ۶/ ربیع الآخر ۱۳۲۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے ایك منزل مکان منہدمہ(یعنی ہر چہار جانب دیوار ہائے شکستہ بقدر ساڑھے تین درعہ بلند موجود تھیں)چار سو پچیس درعہ اراضی مسمی بکر سے خرید کرکے مکان پختہ تعمیر کیا اور پس پشت مکان نو تعمیر کے ۱۲ گرہ عریض اور سرا سر طویل اراضی برائے آبچك چھوڑی۔مسمی عمرو نے جس کا مکان پس پشت پر سے جز و اراضی آبچك میں مداخلت ناجائز کیا اس کے تخلیہ کا زید نے عمرو پر دعوٰی کیا عمرو نے یہ جوابدہی کی اراضی مدعا بہ ملکیت مدعی نہیں بلکہ میری مملوکہ ہے اور دستاویز پر میری گواہی نہیں ہے مگر عمرو نے کوئی ثبوت اپنی ملکیت کا اور باطل ہونے دستاویز بیعنامہ کا پیش نہیں کیا عدالت نے جو پیمائش اراضی کی کرائی تو بموجب تعداد مندرجہ بیعنامہ کے اراضی مدعیہ آبچك مکان مدعی پائی گئی مگر عدالت نے دعوٰی مدعی کو اس بناء پر نامنظور فرمایا کہ اس مقدمہ میں شہادت بالبینہ یا اقبال یا نکول نہیں ہے جس پر مدار فیصلہ ہونا چاہئے زید نے شہادت دستاویز بیعنامہ کو کافی تصور کرکے شہادت بالبینہ پیش نہیں کیا ورنہ وہ بہت سی شہادتیں بالبینہ پیش کرسکتا تھا اور اب بھی پیش کرسکتا ہے اس صورت میں عدالت کو دعوی نامسموع فرمانا چاہئے تھا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع