30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حق حبس مدعا علیہ میں ہے یعنی تاکہ حاکم اسے حبس کرے کہ شیئ مدعی حاضر لائے نہ کہ ابتدا اسی قدر شہادت پر ڈگری دی جائے۔جامع الفصولین میں ہے:
|
لوادعی عینا غائبا لایعرف مکانہ بان ادعی انہ غصب منہ ثوبا او قنا ولایدری قیامہ او ھلاکہ فلو بین الجنس والصفۃ والقیمۃ تقبل دعواہ،ولولم یبین قیمتہ اشار فی عامۃ الکتب الی انہا تقبل فانہ ذکر فی کتاب الرہن لو ادعی انہ رھن عندہ ثوباوھو ینکر تسمع دعواہ،وذکر فی کتاب الغصب ادعی انہ غصب منہ امۃ و برھن یسمع وبعض مشایخنا قالواانما تسمع دعواہ لو ذکر القیمۃ وھذاھو تاویل ماذکر فی الکتاب و قال فقیہ الاعمش رحمہ اﷲ تاویل ماذکر فی الکتاب ان الشہود شھد واعلی اقرار المدعی علیہ بالغصب فثبت غصب القن باقرارہ فی حق الحبس والحکم جمیعا،وعامۃ المشایخ علی ان ھذہ الدعوٰی والبینۃتقبل ولکن فی حق الحبس واطلاق م رحمہ اﷲ تعالٰی فی الکتاب یدل علیہ ومعنی الحبس |
کسی ایسی موجود غائب چیز کا دعوٰی کیا جس کے مقام کا علم نہیں جیسا کہ کسی دوسرے پر کپڑے یا غلام کو غصب کرنے کا دعوٰی کیا اور کہا معلوم نہیں کہ وہ مغصوب قائم ہے یا ہلاك ہوگیا ہے،تو ایسی صورت میں اگر مدعی نے اس چیز کی جنس،صفت اور قیمت کو بیان کیا تو دعوٰی مقبول ہوگا اور اگر قیمت کا ذکر نہ کیا تو عام کتب میں مقبول ہونے کا اشارہ ہے،کیونکہ انہوں نے کتاب الرہن میں ذکر کیا کہ ایك نے اگر کپڑے کے رہن کا دعوٰی کیا تو مدعی علیہ نے انکار کیاتو مدعی کا دعوٰی مسموع ہوگا،اور انہوں نے کتاب الغصب میں یوں ذکر کیا ہے ایك شخص نے دعوٰی کیا کہ فلاں نے میری لونڈی غصب کی ہے اور گواہ پیش کردئے تو یہ دعوٰی مسموع ہوگا اور بعض مشائخ نے ذکر کیا کہ اگر قیمت ذکر کی تو دعوٰی مسموع ہوگا یہ کتاب میں مذکور کی تاویل ہے اور فقیہ ابواعمش رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ کتاب الغصب میں مذکور کی تاویل یہ ہےکہ گواہوں نے مدعٰی علیہ کے غصب کے اقرار پر شہادت دی ہوتو اقرار کی بنا پر غلام کا غصب قید اور حکم دونوں میں ثابت ہوگا جبکہ عام مشائخ نے یوں ذکر کیا کہ یہ دعوی اور گواہی قبول ہوگی لیکن صرف حبس میں،جبکہ کتاب میں مصنف رحمہ اﷲ تعالٰی کا مطلق بیان اس کی تائید پر دلالت کرتا ہے اور حبس کا معنٰی یہ ہے کہ مدعٰی علیہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع