30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والشہادۃ لان الوزن فی المشار الیہ لغو[1]۔ |
دعوٰی اور شہادت دونوں مقبول ہیں کیونکہ مشار الیہ چیز میں وزن کابیان لغو ہوتا ہے۔(ت) |
اور جو شیئ حاضر نہ ہو اس میں جنس وقدر،بالجملہ اس قدر اشیاء کابیان ضروری ہے جن سے اس کی پوری تعیین بقدر امکان واحتیاج حاصل ہو،کنز الدقائق وتبیین الحقائق میں ہے:
|
(لایصح الدعوی حتی یذکر شیئا علم جنسہ وقدرہ) لان فائدتھا الالزام بواسطۃ الاشھاد ولا یتحقق الاشھاد ولاالزام فی المجہول فلا یصح[2]۔ |
کوئی دعوٰی صحیح نہیں ہوتا جب تك شیئ کو ذکر کرکے اس کی جنس اور قدر کو بیان نہ کیا جائے کیونکہ دعوے کا مفاد گواہی کے ذریعے الزام ثابت کرنا ہے جبکہ الزام اور گواہی مجہول چیز میں متحقق نہیں ہوسکتے اس لئے دعوی صحیح نہ ہوگا۔(ت) |
قرۃ العیون میں ہے:
|
معلومیۃ المال المدعی ای ببیان جنسہ وقدرہ بالاجماع لان الغرض الزام المدعی علیہ عند اقامۃ البینۃ ولا الزام فیما لایعلم جنسہ وقدرہ[3]۔ |
جس مال کا دعوٰی ہو اس کا جنس اور مقدار بیان سے معلوم ہونا بالاجماع ضروری ہے کیونکہ غرض یہ ہے کہ مدعٰی علیہ کو گواہی کے وقت الزام دیا جائے جبکہ جنس اور قدر معلوم ہوئے بغیر الزام متحقق نہیں ہوگا۔(ت) |
اور ظاہر ہے کہ سونے چاندی میں قدر وہی وزن ہے،جامع الفصولین میں ہے:
|
فی الذھب والفضۃ المقدر ھوالوزن[4]۔ |
سونے اور چاندی کے دعوٰی میں ضروری بیان وزن کا ہے۔(ت) |
تو بیان وزن ضروری ہے اور بغیر اس کے دعوٰی ہو یا شہادت صحیح نہیں،بحرالرائق میں ہے:
|
اشار باشتراط معلومیۃ الجنس و |
جنس اور قدر کے معلوم ہونے کی شرط میں انہوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع