30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قیل میعاد شرف حاصل ہوگا۔
خاکسار نیاز مند دیرین از ریاست رام پور ۸/ دسمبر ۱۹۰۸ء
الجواب :
اللھم لك الحمد(یا اﷲ ! تمام حمدیں تیرے لئے ہیں۔ت)اصل مقصود دعوی و شہادت دونوں میں تعین مدعی بہ ہے کہ قضا ممکن ہو فان القضاء بمجہول غیر معقول(مجہول چیز کا فیصلہ عقل کے خلاف ہے۔ت) درمختار میں ہے:
|
شرطھا ای شرط جواز الدعوی معلومیۃ المال المدعی اذلایقضی بمجہول[1]۔ |
اس کی شرط یعنی دعوٰی کی شرط یہ ہے کہ وہ مال معلوم ہو جس کا دعوٰی کیا گیا ہے کیونکہ مجہول چیز کا فیصلہ نہیں ہوتا۔(ت) |
پھر جو شیئ حاضر ہو اس کی طرف اشارہ تعیین کےلئے کافی ہے۔جامع الفصولین میں ہے:
|
تسمع الدعوی بحضرتہ عند الاشارۃ الیہ وحینئذ یستغن عن ذکر الاوصاف و الوزن والنوع[2]۔ |
مدعٰی کے حاضر ہونے پر اس کی طرف اشارہ سے دعوٰی مسموع ہوگا اور اس صورت میں دعوی میں چیز کے اوصاف،وزن اور اس کی نوعیت بیان کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
لوکان عینا حاضرا لا یشترط ذکراوصافہ[3]۔ |
اگر کسی موجود حاضر چیز سے متعلق دعوٰی ہوتو اس کے اوصاف کو ذکر کرنا شرط نہیں(ت) |
یہاں تك کہ وزن بیان نہ کرنا درکنار اگر غلط و خلاف واقع بیان کیاضرر نہ کرے گا لان التسمیۃ تلغو عن الاشارۃ(کیونکہ اشارہ کی وجہ سے اوصاف کا ذکر لغو ہوجاتا ہے۔ت) بزازیہ میں ہے:
|
ادعی حدیدا و ذکرانہ عشرۃ امناء فاذا ھو عشرون او ثمانیۃ تقبل الدعوی |
حاضر لو ہے کو اشارہ کرکے دعوٰی کیا اور بیان کیا کہ یہ دس من ہے جبکہ وہ بیس من یا آٹھ من نکلا تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع