30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہونا مخل صحت ہبہ نہیں تو اس تقدیر پر اس سوال دوم کے لئے کوئی منشا باقی نہیں،ہاں اگر یہ گواہیاں شرعًا مخدوش و نامقبول ہوں تو ان گواہیوں پر کہ اب تك واہب کا قبضہ رہا اب بھی التفات نہ ہوگا کہ شہادت علی النفی معتبر نہیں بلکہ مدعیہ ہبہ کی درخواست پر خواہندہ تقسیم سے حلف لیا جائے گا کہ اس کے علم میں واہب نے کبھی موہوب لہا کو قبضہ نہ دلایا اگر وہ حلف سے انکار کرے گا ہبہ ثابت ہوجائے گا اور حلف کرے گاتو ہبہ غیر ثابت قرار پاکر مکان میں سے اس خواستگار تقسیم کا حصہ جدا کردیا جائے گا،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۹۲: ازریاست رامپور بنگلہ آزاد خاں مرسلہ مفتی لطف اﷲ صاحب خلف مفتی محمد سعد اﷲ صاحب ۱۴ذیقعدہ ۱۳۲۶ھ
بخدمت مبارك جناب مولانا مخدوم ومکرم ذی المجد والکرم جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دام مجد کم ! بعد سلام مسنون التماس ہے کہ ایك شخص نے دعوی عاریت زیور کا کیا ہے اس میں صفت وزن اور قیمت کا اظہار کیا ہے شہود نے مطابق گواہی دی ہے لیکن وزن نہیں بیان کیا ہے اسی نقصان کے نظر سے شہادت مقبول نہیں ہوئی ہے مدعی عذر دار نے روایت ذیل فتاوٰی عالمگیری میں پیش کی ہے:
|
ان وقعت الدعوی فی عین غائب لایدری مکانہ بان ادعی رجل علی رجل انہ غصب منہ ثوبااو جاریۃ و لایدری انہ قائم او ھالك ان بین الجنس والصفۃ والقیمۃ فدعواہ مسموعۃ وبینتہ مقبولۃ[1]۔ |
اگر کسی ایسی چیز کے متعلق دعوٰی ہو جو غائب ہو اورمعلوم نہ ہو کہ کہاں ہے یوں کہ کسی نے دوسرے کے خلاف دعوٰی کیا کہ اس نے میرا کپڑا یا لونڈی غصب کر رکھی ہے معلوم نہیں کہ موجود ہے یا ضائع ہوگئی ہے اور مدعی نے اس پر شہادت میں جنس،صفت اور قیمت بیان کی ہو تو اس کا دعوٰی مسموع اور گواہی مقبول ہوگی۔(ت) |
ظاہر ہے کہ روایت ہذا متعلق بہ غصب ہے کیا یہی حکم عاریت میں بھی جاری ہوسکتا ہے یعنی مثل غصب کے عاریت میں بھی اگر شہود وزن کا ذکر نہ کرینگے جب بھی شہادت مقبول ہوگی چونکہ نظر عالی نہایت وسیع ہے اور محققانہ مسلك ہے لہذا آپ کی خدمت باعظمت میں تصدیعہ دیا جاتا ہے کہ جواب باصواب سے آگاہ فرمایا جائے،مقدمہ کی تاریخ ۱۱/دسمبر ۱۹۰۸ء مقرر ہے، امید کہ ورودجواب سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع