30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شہادتوں میں اس کا عدم بیان درکنار اگر بیان عدم ہوتا جب بھی مضر نہ تھا کہ قبضہ جو مجلس ہبہ میں ہوا اگرچہ بے اذن واہب یا باذن واہب ہو اگر چہ مجلس ہبہ کے بعد وہ مطلقًا مثبت ملك موہوب لہ ہو اور یہی دلیل قبول ہے اگرچہ موہوب لہ نے صراحۃً قبول ہبہ نہ کیا ہو۔ شلبی علی التبیین میں امام قاضی خاں سے اور حاوی الفتاوٰی و فتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
|
وھذانص الھندیۃ لو قال وھبت منك ھذا العبد والعبد حاضر فقبضہ جازت الھبۃ وان لم یقل قبلت کذافی الملتقط،ولو کان العبد غائبا فقال لہ وھبت منك عبدی فلانا فاذھب واقبضہ فقبضہ جازوان قبلت وبہ ناخذ کذافی الحاوی للفتاوی[1]۔ |
یہ ہندیہ کی عبارت ہے،اگر کسی نے کہا یہ عبد میں نے تجھے ہبہ کیا،عبد حاضر تھا موہوب لہ نے اسی وقت عبدکو قبضہ میں لے لیا تو ہبہ صحیح ہوجائیگا اگرچہ زبانی"میں نے قبول کیا"نہ کہا ہو جیسا کہ ملتقط میں ہے،اور اگر عبد غائب اور کہا فلاں عبد میں نے تجھے ہبہ کیا جاکر قبضہ کرلو،پس اس نے قبضہ کرلیا تواگرچہ زبانی قبول کرنے کی بات نہ کی ہوتو بھی ہبہ جائز ہے،ہمارا یہی مختار ہے،الحاوی للفتاوٰی میں یوں ہے۔(ت) |
اسی طرح امام فقیہ النفس قاضی خاں نے اسے بہ ناخذ[2] (ہم اسے ہی اختیار کرتے ہیں۔ت)فرمایا، سوال میں بیان گواہان کا خلاصہ لکھا ممکن کہ پورا بیان دیکھنے سے کوئی اور بات پیدا ہومگر جس قدر خلاصہ ہمارے سامنے پیش ہوا اس میں سید امیر شاہ وعبدالمجید خاں کی شہادتیں اعتراضات سے پاك ہیں اگر بیان کامل میں کوئی بات مضر شہادات نہیں اور یہ دو گواہیاں قابل قبول شرع اور بروجہ شرعی گزر گئی ہوں تو ضرور ہبہ مکان بحق صنوبر بیگم ثابت ہے اور مکان تقسیم سے بری۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)سائل کو تحریر ہبہ نامہ سے اعتراف ہے قبضہ موہوب لہ میں کلام ہے اور قاضی ریاست نے مدعیہ ہبہ و قبضہ کا دعوٰی سماعت کیا اور اس پر گواہ لئے جیسا کہ سوال اول سے ظاہر ہے اور ہم اس کے جواب میں واضح کر آئے کہ ان میں دو شہادتیں اگر بروجہ مقبول شرعی گزری ہوں توہبہ تام و ثابت ہے اور ساعت قبضہ موہوب لہا سے پہلے اور بعد آج تك اور دن کا اس میں رہنا بسنا قابض
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع