30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عالمگیری میں ذخیرہ سے ہے:
|
الاان تاتی العامۃ وتشھد بذلك فیؤخذ بشہادتھم[1]۔ |
مگر عام لوگ بتائیں تو اس پر لی گئی شہادت قبول ہوگی۔(ت) |
نیز ان دونوں میں ہے:
|
الاان تکون ظاہرامستفیضایعرفہ کل صغیر وکبیر وکل عالم وجاہل[2]۔ |
مگر ظاہر مشہور کہ ہر چھوٹا بڑا،عالم و جاہل اسے جانتا ہو۔(ت) |
اور یہاں مستفیض متواتر شہادتیں خاص اس امر پر گزرنی درکار تھیں کہ وقت قبضہ صنوبر بیگم رسول خاں یا اس کا اسباب اس مکان میں موجود تھا یا فلاں لوگوں کا قبضہ تھا ورنہ یہ مجمل بات کہ فلاں ہمیشہ سے اس میں رہتے ہیں یا مرتے دم تك رہے اصلًا کافی نہیں کہ ان شہادتوں کی بنا استصحاب حال پر ہوگی اور موہوب لہا کہ شہادتیں خاص اس وقت تخلیہ تامہ بتارہی ہیں تو وہ شہادات ان کے معارض نہیں ہوسکتیں کہ تخلیہ صرف ایك ساعت خفیفہ وقت قبضہ ضرور تھا اس کے بعد عمر بھر خود رسول خاں کا قبضہ باجازت صنوبر بیگم خواہ بلا اجازت غصبًا رہے تو جو ملك کہ صنوبر بیگم کے لئے بعد ہبہ قبضہ تام سے ثابت ہولی زائل نہیں ہوسکتی کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)جامع الفصولین اواخر فصل عاشر میں ہے:
|
ادعی دارا انی اشتریتہ من ابیك وبرھن ذوالید انہ ملك ابیہ الی یوم موتہ و مات و ترکہ میراثا لاتقبل بینتہ لانھم شھدواباستصحاب الحال والمدعی اثبت الزوال[3]۔ |
کسی نے ایك شخص کے مقبوضہ مکان پر دعوٰی کیا یہ مکان میں نے تیرے والد سے خریدا ہے جبکہ قابض کہتا اور شہادت پیش کرتا ہے کہ یہ موت تك میرے والد کی ملکیت رہا اور اس نے اپنی موت پر اس کو بطور ترکہ میراث چھوڑا ہے،تو قابض کی یہ شہادت قبول نہ ہوگی کیونکہ یہ سابقہ حال پر شہادت ہے جبکہ مدعی ملکیت کے زوال کو ثابت کررہا ہے۔(ت) |
اور جب کہ شہادتیں صنو بر بیگم کو بعد ہبہ قبضہ دلانا بیان کررہی ہیں تو قبول صنوبر بیگم اصلًا ضرور نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع