30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الشہادۃ علی ھذا [1]۔ |
شہادت کو بھی۔(ت) |
تو گواہ جب شہادت دیں کہ واہب نے ہبہ کیا اور قبضہ کرادیا اس کے یہی معنی ہیں کہ اپنا قبضہ اٹھا کر موہوب لہ کو قابض کردیا اور اوپر معلوم ہوچکا کہ جب تك وہ خود یا اس کا اسباب یا اہل وعیال یا کوئی ساکن جو بلا اجر اس کی اجازت سے رہتا ہو مکان میں موجود ہے واہب کا قبضہ نہ اٹھا تو قبضہ دلانا صادق نہ ہوا حالانکہ شہود قبضہ دلانے کی گواہی دے رہے ہیں تو بالضرورت اس شہادت کے یہی معنی ہیں کہ تخلیہ تام ہولیا اور واہب و متاع واہب واہل وعیال واہب وغیرہم جملہ مذکورین جن کی بقاء قبضہ واہب کی بقا ہو اس وقت مکان میں نہ تھے بالجملہ قبضہ دلانے کی شہادت بعینہ تخلیہ وفراغ کی شہادت ہے جس کے بعد اس کے ذکر صریح کی اصلًا حاجت نہیں جس طرح حاکم کے حضور نکاح کی گواہی میں شہود کا اتنا کہنا کافی ہے کہ فلاں مدعی نے فلاں مدعا علیہا سے نکاح کیا تمام شرائط کی تفصیل کہ اس وقت دو مرد یا ایك مرد دو عورتیں عاقل بالغ سامع فاہم موجود تھے اور مجلس واحد میں انہوں نے ایجاب وقبول سنے وغیر ذلك بیان کرنے کی حاجت نہیں لان الشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ(کیونکہ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے لوازمات سمیت ثابت ہوتی ہے۔ت)ولہذا شہادت ہبہ خواہ دعوٰی ہبہ کی تصویر وں میں جہاں دیکھئے علماء کرام قدست اسرار ہم نے اسی قدر پر قناعت فرمایا ہے کہ ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا اس کے ساتھ یہ نہیں بڑھاتے کہ اور واہب خودبھی مکان سے الگ ہوگیا اور اپنا مال واسباب بھی نکال لیا اور اپنے اہل وعیال کو بھی جداکردیا اور جو لوگ بلا اجارہ اجازۃً رہتے تھے ان کو بھی ہٹادیا اس کے بعد قبضہ کرایا،تو وجہ وہی ہے کہ یہ سارا بیان اتنے کہنے میں آگیا کہ قبضہ کرادیا جیسے جملہ شرائط نکاح اس لفظ میں آگئے کہ نکاح کیا جامع الفصولین آخر فصل ۱۱میں ہے:
|
شھداحدھماکہ ایں بخواست ایں زن را وشھد الاخر کہ ایں زن خود را بایں داد تقبل[2]۔ |
ایك نے شہادت دی کہ اس نے عورت کونکاح کی پیشکش کی ہے اور دوسرے نے یوں شہادت دی کہ عورت نے خود اپنے آپ کو اس کے نکاح میں دیا تو یہ شہادت مقبول ہوگی۔(ت) |
خزانۃ المفتین میں ہے:
|
قال ھذہ امرأتی اوقال ھذہ منکوحتی وشھد واانہ کان تزوجھا تقبل |
مرد نے کہا یہ میری بیوی ہے،یا کہا میری منکوحہ ہے،اور گواہوں نے شہادت میں کہا کہ اس نے اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع