30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لووھب من ابنہ الصغیر دارا و الاب ساکنھا ومتاعہ فیہا جازت الھبۃ،وملکہا الابن بمجرد قولہ وھبتھا لہ لانھا فی یدہ و سکناہ ومتاعہ فیہا لاینافی یدہ بل یقررھا فتکون ھی فی قبضہ وھو الشرط،ولوکان یسکنھا غیرہ باجر لا یجوز لماذکرنا(ای فی الغاصب والمرتہن والمستاجران کل واحد منھم قابض لنفسہ وعال لنفسہ بخلاف المودع لان یدہ ید المالک)وان کان بغیر اجر جازت الھبۃ وملکھا الابن بمجرد العقد ذکرہ محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی المنتقی [1]۔ |
اگر باپ نے اپنے نابالغ بیٹے کو مکان ہبہ کیا حالانکہ باپ اس میں سکونت پذیر ہے یا باپ کا سامان اس میں موجود ہے تو ہبہ جائز ہوگا اور یہ کہہ دینے سے کہ میں نے بیٹے کو یہ مکان ہبہ کیا بیٹا مالك ہوجائیگا کیونکہ نابالغ کے لئے باپ کا قبضہ ہی کافی ہونے کی وجہ سے مکان میں باپ کی رہائش اور سامان قبضہ کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ قبضہ کا ثبو ت ہے لہذا یہ بیٹے کے قبضہ میں ہے یہی قبضہ شرط ہے اور اگر اس مکان میں باپ کاغیر کوئی کرایہ دار ہوتو یہ قبضہ ہبہ کے لئے صحیح نہ ہوگا،اس کی وجہ ہم نے ذکر کردی ہے یعنی غاصب،رہن لینے والے، اجرت پر لینے والے،کے بارے میں ذکر کیا کہ یہ لوگ اپنی ذات کے لئے قابض اور عامل ہوتے ہیں،اس کے بخلاف امانت پاس رکھنے والا،کہ اس کا قبضہ امانت کے طور پر مالك کا قبضہ قرار پاتا ہے،اور اگر باپ کے ہبہ کردہ مکان میں کوئی دوسرا بغیر کرایہ رہائش پذیر ہے تو مذکورہ صورت میں ہبہ جائز اور ہبہ کر دینے سے نابالغ بیٹا مالك قرار پائے گا۔امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی نے اس کو منتقی میں ذکر فرمایا ہے(ت) |
اور قبضہ دلانے کے معنی شرعًا وعقلًا وعرفًا یہی ہیں کہ اپنا قبضہ اٹھا کر اس کا قبضہ کرادیا جائے ورنہ جب تك اپنا قبضہ موجود ہے اس کا قبضہ کیونکر ہوگاکہ شیئ اپنے منافی کے ساتھ جمع نہیں آخر نہ دیکھا کہ جب تك تخلیہ تامہ نہ ہو واہب کے اس قول کو کہ میں نے تجھے قابض کردیا صحیح نہ مانا اور کلام مدعی کا ہو خواہ شاہد خواہ کسی عاقل کا،وہ معنی صحیح ہی پر محمول ہوگا،جامع الفصولین فصل اربعین میں ہے:
|
مطلق کلام العاقل او تصرفہ یحمل علی الصحۃ بقضیۃ الاصل وکذا |
عاقل کے کلام اور تصرف کو اصل قاعدہ کے مطابق صحت پر محمول کیا جائے گا اور یوں ہی اس کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع