30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبضہ ناقصہ کا ہوا لہذا یہ گواہی بھی معتبر نہیں۔
عبدالحمید خاں کی گواہی جو اوپر معاینہ قبضہ کی ہے اس میں یہ نقصان ہے کہ ذات رسول خاں سے خلو اس مکان کا نہیں بیان کیا ہے اور یہ بیان کیاہے کہ مکان متنازعہ میں اس وقت سوائے مدعا علیہا کے او رکوئی نہیں تھا اور کوئی ہوتو مجھے معلوم نہیں،اس تقریر سے معلوم ہوتا ہےکہ عبدالمجید خاں کو پور ا علم مکان کے خالی ہونے کا نہ تھا تو یہ گواہی بھی قبضہ ناقصہ کی ہوئی۔جائز ہے کہ اس مکان میں اور کوئی ہو سوائے موہوب لہا کےاس کے ہونے کے سبب سے قبضہ موہوب لہا کا تام نہ ہوا اور عبدالمجید خاں کی گواہی جو اقرار واہب پر ہے اور ہمارے سامنے جمعدار مذکور نے کہا کہ میں نے مدعا علیہا نمبر۲ کو قبضہ دلادیا تو یہ گواہی اوپر اقرار قبضہ کے اور دونوں گواہوں سابق کی گواہی ہے اوپر معاینہ قبضہ کے اس اختلاف کے سبب سے یہ گواہی عبدالمجیدخاں کی مقبول نہیں ہے۔مثل اور خارجی تحقیقات سے ثابت ہے کہ مدعا علیہا اول اور ان کے شوہر بہرام خاں قدیم سے اس مکان میں رہتے ہیں اور اپنے اموال اور اسباب کے قابض اور متصرف ہیں اس مکان میں اب بھی قبل بھی قابض اورمتصرف تھے اور مکان موہوب کا مشغول ہونا قبضہ موہوب لہا کے وقت ایسے اسباب کے ساتھ کہ موہوب لہا کے قبضہ میں نہ ہو دوسرے شخص کے قبضہ میں ہو مانع تمامیت قبضہ ہے اور کسی گواہ نے خلو مکان کا مدعاعلیہ نمبر۱ اور اس کے شوہر اور دونوں کے اسباب سے بیان نہیں کیا اس صورت میں بھی مشاہدہ قبضہ ناقصہ کا ہوا کہ مانع ہے تمامیت قبضہ کا،مکان موہوب اگر قبل از ہبہ موہوب لھا کے قبضہ تامہ میں فرض کیا جائے تو انعقاد عقدہبہ کے لیے صراحۃً قبول کرنا موہوب لہ کا ایجاب ہبہ کو چاہئےفقط قبضہ قائم مقام قبول نہ ہوگا اور عقد ہبہ منعقد نہ ہو گی اس صورت میں سب گواہوں نے یہ بیان کیا کہ رسول خاں نے ہمارے سامنے مکان متنازعہ کو مدعاعلیھا نمبر۲ کو ہبہ کیا یہ تو ایجاب ہی ہے اور یہ کسی نے نہیں بیان کیا کہ مدعا علیہا نمبر۲ نے اس ہبہ کو قبول کیا یانہیں،کیا تو ایجاب ہوئی بغیر قبول صریح کے،تو اس صورت میں عقد ہبہ منعقد نہ ہوا تو وہ مکان ہبہ کے سبب سے مملوك موہوب لہا کا نہ ہوا،گواہان مذکورہ کی گواہی کے نقصانات سے اور مدعی کے متعدد گواہوں کے بیان سے کہ جمعدار کے اکثر اہل وعیال اور زوجات اس مکان متنازعہ فیہ حین حیات رسول خاں اور بعد ممات رسول خاں سب مشترك رہتے تھے اور اس مکان میں سب قابض تھے اور قبضہ تامہ جو شرط ہبہ ہے وہ متحقق نہیں ہوا تھا مسماۃ صنوبر بیگم کے واسطے،لہذا میری رائے میں یہ آتا ہے کہ بابت مکان متنازعہ فیہ کا ہبہ مدعا علیہا نمبر۲ کو ثابت نہیں ہے۔مکان مذکور میرا ث کے طور پر وارثان رسول خاں پر تقسیم کیاجائے فقط دستخط مولوی محمد جمل۔
سوال دوم: زید نے مکان کا ہبہ بنام مسماۃ آفریدہ بیگم اپنی ایك زوجہ کے منجملہ ازواج لکھا ہبہ نامہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع