30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فتاوٰی قاضی خاں و فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
اذا ادعت مھرھا علی وارث زوجہا اکثر من مھر مثلھا ان کان الوارث مقر بالنکاح یقول لہ القاضی أکان مھرھا کذا اکثر من مھر مثلھا فان قال الوارث لا، یقول القاضی أکان کذا یذکر مھر دون الاول لکنہ اکثر من مھر مثلھا ان قال لا،یقول لہ القاضی أکان کذا الی ان یاتی القاضی علی مقدار مھر المثل،فبعد ذٰلك اذا قال الوارث لا،الزمہ القاضی مقدار مھر المثل ویحلفہ علی الزیادۃ ھذا اذاکان القاضی یعرف مقدار مھر مثلھا فان کان لایعرف یامر امناء بالسوال ممن یعلم او یکلفھا اقامۃ البینۃ علی ما تدعی[1]۔ |
جب عورت خاوند کے وارث پر مہر مثل سے زائد مہر کا دعوٰی کرے تو اگر وارث نکاح کا اقرار کرتا ہے تو قاضی کو چاہئے کہ وہ مہر مثل سے زائد کا وارث سے اقرار کرائے اگر وہ انکار کرے تو پھر پہلے سے کم کااقرار کرائے اگر وہ انکار کرے تو اور نیچے آئے اور جب قاضی مہر مثل پر آجائے اوراس پر بھی وارث انکار کردے تو قاضی مہر مثل کو اس پر واجب کردے اور زیادہ سے انکار پر اس سے قسم لے،یہ جب ہے کہ قاضی مہر مثل معلوم کرچکا ہو ا اور اگر اسے مہر مثل کی مقدار معلوم نہیں تو قاضی کو چاہئے کہ وہ اہل کاروں کو حکم دے کہ وہ اس شخص سے پوچھیں جو اس عورت کے مہر مثل کی مقدار کو جانتا ہو،یا پھر عورت کو پابند بنائے کہ وہ اپنا مہر مثل ثابت کرنے کیلئے گواہ پیش کرے جو مقدار ثابت کریں(ت) |
جامع الفصولین میں ہے:
|
مات فادعت امرأتہ المسمی فقالت ورثتہ نعلم ان لك مھرا ولا نعلم قدرہ یجبرون علی البیان ومعنی الجبر ان یحبسواحتی یقر وابمقدارالمھر بقیام الورثۃ مقام الزوج[2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
خاوند فوت ہوا تو بیو ی نے مقررہ مہر کا دعوٰی کیا تو ورثاء نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ تیرا مہر ہے لیکن ہمیں مقدار کا علم نہیں توان کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ مقدار بتائیں،اور جبر کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مہر کی مقدار کے اقرار تك محبوس کیاجائے،کیونکہ ورثاء خاوند کے قائم مقام ہیں۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع