30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ لمن شھد لہ مھر المثل ای فیکون القول لھا ان کان مھر مثلھا کما قالت او اکثر،ولہ ان کان کماقال اواقل وان کان بینہماای اکثر مما قال واقل مما قالت ولابینۃ تحالفا ولزم مھر المثل کذا فی الملتقی وشرحہ قولہ وان کان،ھذا بیان لثالث الاقسام،فانہ اذا لم یقیما البینۃ او اقاماھا قد یشھد مہر المثل لہ اولھا او یکون بینھما فقدم بیان القسمین الاولین فی المسألتین،وھذابیان الثالث،وقولہ فان حلفا راجع الی المسألۃ الاولی وقولہ اوبرھنا راجع الی الثانیۃ لکن کان علیہ حذف قولہ تحالفا لانہ اذبرھنا لاتحلف،قولہ تحالفا فان نکلت المرأۃ وجب الف، و اذانکل یقضی بالفین ماعرف ان ایھما نکل لزمہ دعوی الاخر۱ھ وصورۃ المسألۃ فیما اذاادعت الالفین وادعی ھو الالف و کان مھر المثل الفا و خمسائۃ، قولہ قضی بہ ای بمھر المثل اھ [1]مختصرا۔ |
ماتن کا قول"مہر مثل جس کی شہادت"یعنی بیوی کی بات مانی جائے گی جب مہر مثل اتنا ہو یا زائد ہو اور خاوند کی بات مانی جائے گی جب مہر مثل اس کے قول برابر ہو یا کم ہو،اگر دونوں کے درمیان ہو یعنی مرد کے دعوٰی سے زائد اور بیوی کے دعوٰی سے کم ہو،تو گواہی نہ ہونے کی صورت میں دونوں سے قسم ہوگی او رمہر مثل لازم ہوگا۔ملتقٰی اور اس کی شرح میں یوں ہے ماتن کا قول"ان کان"یہ تیسری قسم کا بیان ہے،تین قسمیں یہ ہیں:(۱)دونوں نے گواہی پیش نہ کی(۲)یا دونوں نے پیش کی اور مہر مثل کسی ایك کی تائید کرے(۳)یا مہر مثل دونوں کے دعووں کے بین بین ہو،تو ماتن نے پہلے دونوں مسئلوں میں پہلی دونوں قسموں کابیان بتایا اور اب یہ تیسرے کا بیان ہے،اس کا قول"دونوں نے اگر قسم کھائی"یہ پہلے مسئلہ کا بیان اور اس کا قول"دونوں نے گواہی پیش کی"یہ دوسرے کا بیان ہے لیکن"دونوں قسم دیں"والے قول کو حذف کرنا مناسب تھا کیونکہ جب گواہی پیش کردیں تو قسم نہیں ہوگی،اس کا قول"دونوں قسم دیں"تو عورت قسم سے انکار کرے تو خاوند کا دعوٰی ہزار کا واجب ہوگا اور اگر خاوند قسم سے انکار کرے تو عورت کا دو ہزار فیصلہ کن ہوگا جیساکہ معلوم ہوچکاکہ جب ایك قسم سے انکار کرے تو دوسرے کا دعوٰی ثابت ہوجاتا ہے،یہاں مسئلہ کی صورت یہ ہے،عورت کا دعوٰی دو ہزار،مرد کا ایك ہزار جبکہ مہر مثل ڈیڑھ ہزار ہو، اس کا قول"اس پر فیصلہ دے"یعنی مہر مثل پر، اھ مختصرًا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع