30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
والابراء والصدقۃ مثل ماذکر قھستانی [1]۔ |
اپنے حق سے کسی کو بری کرنا اور صدقہ بھی مذکور کی مثل ہوگا،قہستانی۔(ت) |
تو عورتوں کی شہادت بجائے نافع ہونے کے مدعی ابراء کو اور مضر ہے کہ وہ ابراء ہوا بھی تو ایسے وقت ہوا کہ بے اجازت مدعیہ مدعا علیہ کو مفید نہیں،کلام یہاں ہنوز اور باقی ہے مگر اس قدر بھی وضوح میں کافی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)جبکہ بکر اثبات ابراء نہ کر سکا حاکم ہندہ سے حلف لے اگر وہ حلف سے انکار کرے ابراء ثابت ہوجائیگا اور دعوٰی مدعیہ رد کردیا جائیگا،اور اگر حلف کرلے تو دعوٰی ابراء باطل ہوگیا،اب ہندہ کا دعوٰی مہر باقی ہے حاکم نظر کرے کہ پچاس ہزار کا مہر جس کا ہندہ دعوٰی کرتی ہے آیامادر ہندہ کے مہر مثل سے زائد تو نہیں،اگر زائد نہ ہوتو ہندہ ہر گز محتاج گواہان نہیں کہ مقدار مہر مثل تك زن و وارثان زن کا بیان بے حاجت شہادت مقبول ہے کہ بوجہ موافقت مہر مثل ان کا قول موافق ظاہر ہے اور جس کا قول موافق ظاہر ہو وہ مدعا علیہ ہے اور جو مدعا علیہ ہے بار ثبوت اس پر نہیں اس کے مخالف پر ہے یہاں تك کہ اگر مہر مثل یا اس کے ورثہ کا شاہد ہو یعنی ان کے دعوی سے مساوی یا زائد ہو اورمرد کمی کا دعوی کرے اور فریقین گواہ دے دیں تو عورت کے گواہ مسموع بھی نہ ہوں گے کہ شہادت اثبات خفی کے لئے ہے نہ کہ اظہار ظاہر کے واسطے،یہاں اگر بکر پچاس ہزار سے کم کسی مقدار کا تعین بتاتا تو وہ مدعی تھا اس سے گواہ مانگے جاتے اگر گواہان عادل سے مقدار اقل کا ثبوت دے دیتا تو ہندہ کو اسی قدر کا حصہ دلایا جاتا اور گواہ نہ دے سکتا تو ہندہ سے قسم لے کر اس کا دعوٰی ڈگری کردیا جاتا اس صورت میں پچاس ہزار کے گواہ نہ دے دیتی تو سن لئے جاتے کہ مدعی کی جانب گواہ نہ تھے اور اگر کوئی گواہ نہ دیتی او رقسم کھانے سے بھی انکار کرتی تو اسی مقدار اقل کا حصہ پاتی جس کا بکر مدعی ہوتا اب کہ بکر کمی کا دعوٰی بھی نہیں کرتا نہ اسے پچاس ہزار کے مقدار سے انکار ہے،توبیان ہندہ کہ شہادت مہر مثل سے روشن ہے صاف بے مزاحم ہے اور اسے پوری ڈگری پانے کا استحقاق ہے،اور اگر مہر مثلا پچاس ہزار سے کم تھا تو اب ہندہ دربارہ زیادت ضرورمدعیہ ہوگی،اور بکر کا کہنا کہ مجھے تعداد مہر یاد نہیں ہرگز جواب کافی وصحیح نہیں اسے یوں نہ چھوڑا جائے گا بلکہ حاکم اس سے سوال کرے آیا مہر پچاس ہزار کا بندھا تھا،اگر وہ کہے اتنا تھا تو کچھ کم کرکے پوچھے جو مقدار مہر مثل سے ہنوز زائد ہو ا گر وہ اس کی بھی نفی کرے تو اور گھٹا کر دریافت کرے یہاں تك کہ مقدار مہر مثل تك پہنچے اگر وہ اس کی بھی نفی کرے تو حاکم اس سے قسم لے اگروہ قسم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع