30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کیفیتہا ان یقول الاصل مخاطبا للفرع اشھد علی شہادتی انی اشھد بکذا[1]۔ |
اس کی کیفیت یہ ہے کہ اصل گواہ فرع کو خطاب کرتے ہوئے کہے کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں تومیری اس گواہی پر گواہ بن جا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
قولہ انی اشھد بکذا قید بقولہ اشھد لانہ بدونہ لا یسعہ ان یشھد علی شہادتہ[2]۔ |
اس کا قول"انی اشھد بکذا"یہ س کے قول"اشھد"کے لئے قید ہے کیونکہ اس قید کے بغیروہ اپنی گواہی پر گواہ نہیں بنا سکتا۔(ت) |
ہدایہ وطحطاوی میں ہے:
|
لابد ان یشھد عندہ کما یشھد عند القاضی لینقلہ الی مجلس القاضی وھو بالشین الثالثۃ[3]۔ |
اصل کےلئے ضروری ہے کہ فرع کے سامنے اس طرح شہادت دے جس طرح قاضی کےہاں شہادت دیتا تاکہ فرع اسی کو مجلس قضاء میں نقل کرسکے اس طرح کے تیسرے شین یعنی اصل کی شہادت کو دہرائے(ت) |
ثانیًا: اصل کافرع سے یہ کہنا ضروری ہے کہ میری شہادت کا شاہد رہنا بردران زن وشو دونوں کے کلام میں شہادت پر اشہاد نہیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ تم سب لوگ گواہ رہنا یا یہ کہ اس بات پر گواہ رہنا یہ اس قدر کافی نہیں اور اس کی بناء پر جو شہادت علی الشہادت دی جائے مردود ہے۔ردالمحتار میں ہے:
|
قید بقولہ اشھد علی شھادتی لانہ لو قال اشھد علیّ بذلك لم یجز لاحتمال ان یکون الاشہاد علی نفس الحق المشہود بہ فیکون امرابالکذب وبعلی لانہ لو قال بشھادتی لم یجز لاحتمال ان یکون امرابان یشھد |
اشھد بشھادتی(میری شہادت پر شہادت دے)کے ساتھ اس لئے مقید کیا کیونکہ اگر اس کی بجائے بذٰلک(اس امر کی)کہے تو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس میں احتمال رہے گا کہ اصل واقعہ پر گواہ بنارہاہے جو جھوٹ کہنے کا حکم قرار پائے گا،اور علی شہادتی(میری شہادت پر)سے مقید اس لئے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع