30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بان المہر کذا تقبل لاممن سمع من غیرھم[1] (بالمعنی)۔ |
لوگوں سے سن کر یہ شہادت جائز نہیں،(بالمعنی)(ت) |
بفرض باطل اگر یہاں شہادت بالسماع جائز بھی ہوتی تو جبکہ شاہدوں نے اپنی شہادت میں سماع ہونے کی تصریح کردی قابل قبول نہ رہی،ہدایہ میں ہے:
|
وینبغی ان یطلق اداء الشہادۃ ولایفسر،امااذا فسر للقاضی انہ یشھد بالتسامع لم تقبل شہادتہ کماان معاینۃ الید فی الاملاك مطلق للشہادۃ،ثم اذا فسر لاتقبل کذاھذا۔[2] |
مناسب ہے کہ گواہ شہادت کو مطلق رکھیں اور تفسیر نہ کریں اور اگر قاضی کے ہاں تفسیر کردی کہ میں سن کر شہادت دے رہاہوں تو یہ شہادت مقبول نہ ہوگی جیسا کہ قبضہ کا بیان املاك میں مطلق ہے پھر اگر کوئی اس کو بیان کردے کہ صرف قبضہ معلوم ہے ملکیت معلوم نہیں تو ملکیت میں یہ شہادت قبول نہ ہوگی،اسی طرح یہاں ہے۔(ت) |
درمختار میں ہے:
|
وان فسرالشاھد للقاضی ان شہادتہ بالتسامع او بمعاینۃ الید ردت علی الصحیح الا فی الوقف و الموت[3]۔ |
اگر قاضی کے ہاں گواہ نے تفسیر کردی میری شہادت سماع یا قبضہ پر مبنی ہے تو رد کردی جائے گی صحیح قول پر،ماسوائے موت اور وقف کے۔(ت) |
ان دونوں شہادتوں کی حقیقت تو اس قدر ہے مگر شاہدین نے یہ چاہا کہ اپنی سماعی گواہی کو شہادۃ علی الشہادۃ کے دائرہ میں لے آئیں اور غالبًا اسی لئے بیان اصول میں یہ لفظ ذکر کئے کہ تم لوگ گواہ رہنا تاکہ شرط تحمیل کریں لیکن ان سے بہت باتیں رہ گئیں جن کے سبب یہ مقصد بھی پورا نہ ہوا اور شہادت بدستور نا کارہ رہی،
اولًا:اصول یعنی برادران زن شو کا بیان شہادت نہیں،حکایت ہے کہ ان کے بیانوں میں"گواہی دیتا ہوں"کالفظ نہیں تو یہ شہادت علی الحکایۃ ہوئی جس کا حاصل وہی شہادت بالتسامع ہے نہ کہ شہادۃ علی الشہادۃ۔درمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع