30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ادی الی الحرج وتعطیل الاحکام بخلاف البیع لانہ یسمعہ کل واحد[1]۔ |
قبول نہ کی جائے تو حرج اور احکام کی تعطیل تك معاملہ پہنچ جائے بخلاف بیع وغیرہ امو رکہ ان کو ہر ایك سنتا ہے۔(ت) |
بزازیہ میں کہ دربارہ مہر شہادت سماعی کی اجازت دی اس کے معنی یہ ہیں کہ مقدار مہر پر حاضران جلسہ نکاح سے جماعت عظیم یا ثقہ عادل دو مردوں یا ایك مرد دو عورتوں کے بیان سن کر گواہی دینی جائز ہے کہ جب نکاح پر شہادت بالتسامع رواہوئی تو مہر بھی اس کا تابع ہے نہ یہ کہ سنی سنائی معافی مہر پر شہادت جائز ہو،علما نے مہر کو گنا ہے نہ کہ معافی مہر کو،اور ان دونوں میں فرق بدیہی ہے، درمختار میں ہے:
|
لایشھد احدبما لم یعاینہ بالاجماع الافی عشرۃ منھا العتق والولاء عند الثانی والمھر علی الاصح بزازیۃ [2]الخ۔ |
کوئی بھی بغیر معاینہ شہادت نہ دے گا بالاجماع،مگر صرف دس چیزوں میں جن میں عتق،ولاء اور امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالٰی کے ہاں مہر بھی اصح قول کے مطابق شامل ہے، بزازیہ الخ۔(ت) |
طحطاوی میں ہے:
|
لان المھر تبع للنکاح ذکرہ عبدالبر[3]۔ |
کیونکہ مہر نکاح کے تابع ہے،اس کوا مام عبدالبر نے ذکر کیا ہے۔(ت) |
قرۃ العیون میں ہے:
|
لانہ من توابع النکاح فکان کاصلہ[4]۔ |
کیونکہ یہ نکاح کے توابع میں سے ہے لہذا اس کا وہی حکم ہے جو اصل کا ہے۔(ت) |
جامع الفصولین میں ہے:
|
الشہادۃ بالسماع من الخارجین من بین جماعۃ حاضرین فی البیت عند النکاح |
نکاح والے کمرے سے نکلنے والے لوگوں سے سن کر ہی یہ شہادت جائز ومقبول ہے کہ مہر اتنا ہے دوسرے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع