30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دو گھڑی رات گئی تھی عورتیں تھیں،مرد کوئی نہیں،فقط ان کے بھائی موجود تھے،خالد نے منجانب بکر دریافت کیا کہ زید اس وقت کہاں تھے؟کیا گھر میں موجود تھے؟
دوسری عورت کا بیان:گواہی دیتی ہوں اﷲکے واسطے میں بکر کے گھر ان کی بی بی کی دریافت حال کے واسطے گئی تھی بکرکی بیٹی نے ان سے کہا مہر کی بابت کیا کہتی ہو،انہوں نے آنکھ کھولی اور کہا میں نے مہر بخش دیا اور میرے حقوق بھی ان سے بخشوا دیجیو،دو گھڑی رات گئی تھی،کس قدر مرد تھے؟کوئی نہیں صرف عورتیں تھیں،جس نے پہلے گواہی دی ہے یہ تھیں؟کہا موجود تھی،مہر کے معاف کرنے سے دوروز بعد مرگئیں جس وقت مہر معاف کیا ہے اس وقت ہوش و حواس باقی تھے۔
الجواب:
(۱)بیانات شہود اربعہ نظر سے گزرے ان میں ایك بیان بھی اس قابل نہیں کہ اس کی جانب کچھ بھی التفات کیا جائے محض مہمل ومختل ہیں۔شہادت شہود ومشاہدہ وحضور معاینہ سے ہے دونوں مردوں میں کوئی خود اپنے سامنے زوجہ مدعا علیہ کا مہر معاف کرنا نہیں بیان کرتا بلکہ برادران زن و شو یا صرف برادر شوہر سے اپنا سننا بیان کرتے ہیں اور معافی مہران مسائل استثناء سے نہیں جن میں سماعی بات پر شہادت دینی جائز ہے۔ہدایہ میں ہے:
|
لایجوز للشاھدان یشھد بشیئ لم یعاینہ الا النسب والموت والنکاح والدخول و ولایۃ القاضی، و ھذا استحسان والقیاس ان لاتجوز لان الشہادۃ مشتقۃ من المشاہدۃ وذٰلك بالمعاینۃ ولم یحصل فصار کالبیع،وجہ الاستحسان ان ھذہ الامور تختص بمعاینۃ اسبابھا خواص من الناس ویتعلق بھا احکام تبقی علی انقضاء القرون فلو لم یقبل فیہا الشہادۃ بالتسامع |
گواہوں کو جائز نہیں کہ بغیر دیکھے کوئی گواہی دیں ماسوائے نسب،موت،نکاح،دخول یعنی جماع اور قاضی کی ولایت کے، یہ استحسان ہے جبکہ قیاس یہ ہے کہ ان امور میں بھی جائز نہ ہو کیونکہ لفظ شہادت مشاہدہ سے مشتق ہے اور یہ معاینہ سے ہی ہوسکتا ہے جبکہ یہاں معاینہ نہیں ہے لہذا یہ امور بھی دیگر معاملات بیع وغیرہ کی طرح ہوتے ہیں،لیکن استحسان اس لئے کہ یہ امور اپنے اسباب کے معاینہ سے مختص ہوتے ہیں جن کا معاینہ خاص لوگ کرتے ہیں انہی اسباب کی بناء پر ان امور کے احکام زمانہ بھر باقی رہتے ہیں تو اگران میں سننے سنانے پر شہادت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع