30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال دوم:ہندہ دعویدار اس امر کی ہے کہ میری ماں کا نکاح بتعداد مہر پچاس ہزار روپیہ بکر کے ساتھ ہوا ہے بکر سے بقدر حصہ فرائض دلادیا جائے بکر مجیب ہے کہ تعداد مہر مجھے یاد نہیں مگر والدہ ہندہ نے مہر مجھے معاف کردیا ابراء مہر کی شہادت بھی پیش کی لیکن شہادت مذکور عند العدالت کافی و مثبت نہ ہوئی ہندہ ثبوت تعداد مہر میں یہ کہتی ہے کہ مجھے ثبوت تعداد مہر کا اس وقت دینا تھا جب کہ مدعا علیہ یعنی بکر کمی بیشی تعداد مہر میں کلام کرتا بکر کو تعداد مستدعویہ سے اقرار و انکار نہیں بلکہ سکوت ہے صرف ابراء کا دعوٰی تھا جس کو ثابت نہ کرسکا،اب عندالشرع عدالت کو درصورت عدم ثبوت ابراء دین مہر ڈگری بحق مدعیہ باوجود نہ ثابت کرنے تعداد دین مہر کے دینی چاہئے یانہیں؟بینواتوجروا۔
بیان مرد اول کا:گواہی اﷲ کے واسطے دیتا ہوں کہ میں بکر کے یہاں بیٹھا تھا کہ عمرو بغرض فاتحہ پڑھنے کے آئے بعد فاتحہ کے عمرو نے زید برادر بکر سے دریافت کیا کہ بکر کی بی بی نے اپنا مہر بخش دیا یا نہیں میرے سامنے زید برادربکرنے کہا کہ میرے اور کریم کے سامنے بخش دیا اور عمرو سے کہا کہ تم سب لوگ گواہ رہنا وقت ۱۲ بجے دن کے بعد کا تھا بکر کی بی بی کے مرنے کے دوسرے یا تیسرے روز کا یہ ذکر ہے خوب یاد نہیں،سوال:عمرو نے دریافت کیا تھا کہ بکر کی بی بی نے مہر بخش دیا یا لڈن کی ماں نے؟مجھے یاد نہیں کہ کیا کہا تھا جس کے جواب میں زید نے کہا کہ مہر بخش دیا،زید نے اور بھی چند مرتبہ ہمارے روبرو بیان کیا کہ لڈن کی ماں نے مہر بخش دیا۔سوال:بکر کی بی بی کے انتقال کو کس قدر مدت گزری؟تخمینًا اٹھارہ بیس سال ہوئے۔سوال منجانب بکر:کریم مسماۃ کے حقیقی بھائی تھے؟جواب:میں جہاں تك خیال کرتا ہوں حقیقی تھے۔
بیان دوسرے مرد کا:اﷲکو حاضر ناظرجان کر گواہی دیتا ہوں اﷲ کے واسطے یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں بعد مرنے محمد شفیع یعنی بکر کی بی بی کے میاں فیض اﷲ شاہ کی بیٹی کی فاتحہ کو گیا تھا میں نے زید برادر بکر سے دریافت کیا کہ کریم کی بہن،لڈن کی ماں نے مہر بکر کوبخش دیا زید اور کریم دونوں نے کہا لڈن کی ماں نے مہر معاف کردیا اور یہ کہا کہ اس بات پر گواہ رہنا اٹھارہ انیس سال کا عرصہ گزرا وقت دوپہر کا تھا یہ واقعہ مرنے سے دوسرے دن کا ہے۔
بیان عورت کا:عرصہ تخمینًابیس سال کا گزرا کہ بکر کی بی بی نے اپنے خاوند بکر کو مہر بخش دیا تھا تین مرتبہ سوال کیا کہ کس کو بخشا،جواب دیا بکر کو سوال مہر کی تعداد معلوم نہیں تعداد مہر کی بابت اس وقت ذکر میرے سامنے نہیں ہوا زبیدہ بکر کی بی بی تھیں مہر بخشنے سے دو روز بعد انتقال ہوگیا دق میں مبتلا تھیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع