30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے لاکھ روپے اور دیا سلائی کی ڈبیہ کا مسئلہ کیونکر خارج کیجئے گا۔رہن یہی تھی یا اور چیز تھی یہاں بھی صادق۔لاجرم ماننا پڑے گا کہ یہ اس صورت کو شامل نہیں جس میں مرتہن خلاف ظاہر ادعاکرے تو بعینہ یہی علت یہاں بھی ہے،مرتہن خلاف ظاہر ہی کا مدعی ہوا ہے جب تو اس تنقیح کا بار ثبوت اس پر تھا،لاجرم عالمگیریہ میں فرمایا:
|
الظاہر یکذبہ(ای المرتھن)فیما قال فلا یقبل قولہ اذا جحد الراھن ذٰلك کذا فی المحیط [1]۔ |
ظاہر حال اس کو یعنی مرتہن کو جھوٹا قرار دیتا ہے لہذا اس کا قول معتبر نہ ہوگا جبکہ راہن اس کا انکار کررہا ہے محیط میں یونہی ہے۔(ت) |
پھر اس سے بھی عجیب تر یہ ہے کہ اس روایت غیر متعلقہ کے بھی خلاف کیا گیا روایت میں قول مرتہن کیلئے مانا ہے اور قول کسی کا معتبر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس سے حلف لیاجائے گا اگرحلف کرے اس کا قول مقبول ہو،خود فاضل مجوز کو اقرارہے کہ قول مرتہن معتبر ہے مگر بحلف،صورت دائرہ میں بے حلف ہی اسی کا قول معتبر ہوگیا اور اس کا عذر یہ تحریر فرمایا کہ مدعی نے اس کے حلف کی استد عا نہ کی،سبحان اﷲ اگر مدعی گواہ نہ دے سکے اور حلف مدعا علیہ کی خود استدعا بھی نہ کرے کہ ان کچہریوں میں یہ معمول کا لمنسوخ ہورہا ہے تو اب قاضی کو حکم ہےکہ بلا گواہ وبلا حلف خود بخود قول مدعا علیہ خلاف مدعی قبول کرکے فیصلہ دے دے،فتاوٰی امام قاضیخاں و اشباہ والنظائر وفتاوٰی خیریہ میں ہے:
|
القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار والنکول[2]۔ |
قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرے گا اور وہ حجت گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے(ت) |
پھر لطف یہ کہ ساری بلا تو مدعی بیچارے کے سرپڑی کہ(٭٭)چہرہ دار دے کر دو روپے کا کھلونا لے لے اور نام یہ فرمایا گیا کہ مدعی کی ڈگری ہوئی۔بالجملہ اس فیصلہ کا منسوخ کرنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع