30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے منکر ہوا تو بینہ اقرار نکول تینوں طریقے معدوم،اور محض اس مدعی یعنی مرتہن کے زبانی بیان جرمن سلور ہونا مقبول،یوں ہوتو لوگوں کے جان و مال ہلاك و تلف ہوں۔ رسول اﷲصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لو یعطی الناس بدعوٰھم لادعی ناس دماء رجال واموالھم ولکن الیمین علی المدعی علیہ [1]۔ |
لوگ اگر اپنے دعوٰی پر دے دئے جائیں تو لوگوں کے خون اور مال کا دعوٰی کر بیٹھیں ہاں یوں ہے کہ مدعا علیہ پر قسم ہے۔ |
او ریہیں سے ظاہر ہوا کہ روایت درمختار کو اس سے علاقہ نہیں وہ وہاں ہے کہ مرتہن خلاف ظاہر کا مدعی نہ ہو تو آپ ہی اس کا قول معتبر ہوگا کہ وہ قابض ہے یہاں خود مجوز کو اعتراف ہے کہ مرتہن امر خلاف ظاہر کا مدعی ہے جب تو تنقیح دوم میں لکھا تھا کہ ثبوت ذمہ مدعا علیہ ہے،کیا جس کی بات ظاہر کے خلاف ہے،اگر ادعائے خلاف ظاہر کی حالت کو بھی یہ روایت شامل ہوتو بنیوں کی ایك ایك دیا سلائی لاکھ لاکھ روپے کی ہوجائے،زید نے کسی بنئے سے کچھ رہن رکھ کر لاکھ روپے قرض لئے جب وہ قرض ادا کرنے آئے بنیاد یا سلائی کی ایك ڈبیا دکھائے کہ یہ رہن رکھ کر لاکھ روپے مجھ سے لے گئے تھے مدیون گواہ پیش کرے ان میں کسی لفظ زائد و بیکار کے ذکر و ترك کا اختلاف پڑجائے جس سے عام شہادتوں کا خالی ہونا سخت ہی دشوار ہے گواہیاں تو یوں رد ہوگئیں اور اب قول مرتہن کا معتبر ہے،حکم ہوجائے کہ راہن کو ڈگری دی گئی مگر کیسی،یوں کہ یہی دیا سلائی قابل نفاذ حکم ہے لاکھ روپے ادا کرکے دیا سلائی گھر کو لے جائے،اس صورت کو باطل مانئے تو کیوں،حالانکہ روایت درمختار کا اطلاق اسے بھی شامل ہے اس میں اسی قدر تو ہے کہ:
|
قال الراھن الرھن غیر ھذا وقال المرتھن بل ھذا ھو الذی رھنتہ عندی فالقول للمرتھن لانہ القابض[2]۔ |
یعنی راہن نے کہا مرہون اور چیز تھی،مرتہن نے کہا بلکہ یہی تھی،تو قول راہن کامعتبر ہے کہ وہ قابض ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع