30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جرمن سلور کا،اس کی نسبت دونوں گواہوں نے بالاتفاق موافق دعوٰی شہادت ادا کی تویہ بینہ اس اقرار مرتہن سے مل کرثبوت دیتی ہے کہ چاندی کا زیور وزن میں دو سوروپے بھر(ما٭٭)کے عوض مرہون تھا اب طریق حکم میں کیا خفا ہے شہادتیں جب کہ موانع قبول نہ رکھیں مجوز پر لازم ہوا کہ دو سوروپے بھر نقرئی زیور(ما٭٭)لے کر راہن کو واپس دینا مرتہن پر لازم کرے اور اعداد زیور کا شہادت سے تحقیق نہ ہونا مانع حکم نہ ہوگا کہ جنس شیئ مدعی مع وزن وقدر زر رہن معلوم ہولی اسی قدر اس پر الزام حق کے لئے کافی ووافی ہے،معین الحکام ص ۱۴۴میں ہے:
|
لو قالوانشھد ان لہ علیہ دراہم لانعرف عدد ھا فھی ثلثۃ،وکذالو شھدواان علیہ دریھمات جعلت ثلثۃ ثم حلف علی شہادتھم لان الشہود قد بینوا بشھادتھم شیئا معلومًا وھی الدراہم ویحلف مع شہادتھم لجواز ان یکون اکثر من ذلک[1]۔ |
اگر گواہوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ اس کے دوسرے پر دراہم ہیں جن کی مقدار معلوم نہیں تو تین درہم کا حکم ہوگا اور یونہی اگر انہوں نے دراہم کی جگہ دریہمات کہا یعنی جمع کی تصغیر بتائی تو بھی تین ہی ہونگے،پھر قاضی اس شہادت کے ساتھ ساتھ مدعاعلیہ سے قسم لے گا(کہ اس سے زائد نہیں) کیونکہ گواہوں نے ایك معلوم چیزکی شہادت دی یعنی دراہم جس کی تعداد معلوم نہیں،قسم اس لئے لی جائے گی کہ ہوسکتا ہے تعداد تین سے زیادہ ہو،زائد کے انکار پر قسم ہوگی۔(ت) |
دیکھو فقط اتنی شہادت پر کہ مدعا علیہ پر مدعی کے کچھ روپے ہیں یا تھوڑ ے سے درم ہیں حالانکہ گواہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گنتی نہیں معلوم کہ کتنے روپے آتے ہیں شرع نے گواہی مقبول رکھی اور اقل درجہ یعنی تین روپے لازم کئے اور اسے ایك شے معلوم پر شہادت دینا فرمایا یعنی روپے جس سے فقط جنس مدعٰی بہ کا علم ہوا نہ کہ عدد وزن مجموع کا جس کے علم سے گواہوں نے صاف انکار کردیا،تو یہاں کہ شاہدوں نے جنس بھی بتائی کہ چاندی کا تھا اور مجموعی وزن بھی بتایا کہ دو سو روپے بھر تھا اور خود یہ مجموعی وزن فریقین کو تسلیم بھی ہے،یہ کیونکر شہادت مجہولہ قرار پاکر رد ہوسکتی ہے۔غرض تنقیح اول کی تجویز سراسر غلط واقع ہوئی،اس کے بعد فیصلے میں اور سخت بھاری غلطیاں ہوئیں جن کا اندازہ بھی دشوار ہے،ذی علم فاضل مجوز نے یہاں مدعی اور مدعا علیہ کی شناخث میں غور نہ کیا عوام کا خیال یا عرف یہ ہے کہ جو کچہری میں پہلے آکر نالشی ہو مطلقًا وہی مدعی ہے اور جواب دینے والا مدعاعلیہ۔مگر شرع مطہر میں ہزار بار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع