دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

جرمن سلور کا،اس کی نسبت دونوں گواہوں نے بالاتفاق موافق دعوٰی شہادت ادا کی تویہ بینہ اس اقرار مرتہن سے مل کرثبوت دیتی ہے کہ چاندی کا زیور وزن میں دو سوروپے بھر(ما٭٭)کے عوض مرہون تھا اب طریق حکم میں کیا خفا ہے شہادتیں جب کہ موانع قبول نہ رکھیں مجوز پر لازم ہوا کہ دو سوروپے بھر نقرئی زیور(ما٭٭)لے کر راہن کو واپس دینا مرتہن پر لازم کرے اور اعداد زیور کا شہادت سے تحقیق نہ ہونا مانع حکم نہ ہوگا کہ جنس شیئ مدعی مع وزن وقدر زر رہن معلوم ہولی اسی قدر اس پر الزام حق کے لئے کافی ووافی ہے،معین الحکام ص ۱۴۴میں ہے:

لو قالوانشھد ان لہ علیہ دراہم لانعرف عدد ھا فھی ثلثۃ،وکذالو شھدواان علیہ دریھمات جعلت ثلثۃ ثم حلف علی شہادتھم لان الشہود قد بینوا بشھادتھم شیئا معلومًا وھی الدراہم ویحلف مع شہادتھم لجواز ان یکون اکثر من ذلک[1]۔

اگر گواہوں نے کہا ہم شہادت دیتے ہیں کہ اس کے دوسرے پر دراہم ہیں جن کی مقدار معلوم نہیں تو تین درہم کا حکم ہوگا اور یونہی اگر انہوں نے دراہم کی جگہ دریہمات کہا یعنی جمع کی تصغیر بتائی تو بھی تین ہی ہونگے،پھر قاضی اس شہادت کے ساتھ ساتھ مدعاعلیہ سے قسم لے گا(کہ اس سے زائد نہیں) کیونکہ گواہوں نے ایك معلوم چیزکی شہادت دی یعنی دراہم جس کی تعداد معلوم نہیں،قسم اس لئے لی جائے گی کہ ہوسکتا ہے تعداد تین سے زیادہ ہو،زائد کے انکار پر قسم ہوگی۔(ت)

دیکھو فقط اتنی شہادت پر کہ مدعا علیہ پر مدعی کے کچھ روپے ہیں یا تھوڑ ے سے درم ہیں حالانکہ گواہ صاف کہہ رہے ہیں کہ ہمیں گنتی نہیں معلوم کہ کتنے روپے آتے ہیں شرع نے گواہی مقبول رکھی اور اقل درجہ یعنی تین روپے لازم کئے اور اسے ایك شے معلوم پر شہادت دینا فرمایا یعنی روپے جس سے فقط جنس مدعٰی بہ کا علم ہوا نہ کہ عدد وزن مجموع کا جس کے علم سے گواہوں نے صاف انکار کردیا،تو یہاں کہ شاہدوں نے جنس بھی بتائی کہ چاندی کا تھا اور مجموعی وزن بھی بتایا کہ دو سو روپے بھر تھا اور خود یہ مجموعی وزن فریقین کو تسلیم بھی ہے،یہ کیونکر شہادت مجہولہ قرار پاکر رد ہوسکتی ہے۔غرض تنقیح اول کی تجویز سراسر غلط واقع ہوئی،اس کے بعد فیصلے میں اور سخت بھاری غلطیاں ہوئیں جن کا اندازہ بھی دشوار ہے،ذی علم فاضل مجوز نے یہاں مدعی اور مدعا علیہ کی شناخث میں غور نہ کیا عوام کا خیال یا عرف یہ ہے کہ جو کچہری میں پہلے آکر نالشی ہو مطلقًا وہی مدعی ہے اور جواب دینے والا مدعاعلیہ۔مگر شرع مطہر میں ہزار بار


 

 



[1] معین الحکام الباب الحادی والعشرون مصطفی البا بی الحلبی مصر ص۱۱۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن