30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقام البینۃ فشہدا الشہود بان لہ طریقا فی ھذہ الدار جازت شہادتھم وان لم یجدوا الطریق لان الجہالۃ انما تمنع قبول الشہادۃ اذا تعذر القضاء بھا وھٰھنا لایتعذر فان عرض الباب العظمی یجعل حکما لمعرفۃ الطریق [1]اھ مختصرا۔ |
دعوٰی کیا اور اس پر گواہ پیش کئے تو گواہوں نے گواہی دے دی کہ اس حویلی میں اس کا راستہ ہے تو یہ شہادت جائز ہے اگر حویلی میں راستہ موجود نہیں پاتے،کیونکہ جہالت وہاں شہادت کی قبولیت میں مانع ہوتی ہے جب وہ قضا کو متعذر بنادے جبکہ یہاں متعذر نہیں ہے کیونکہ بڑے دروازے کی چوڑائی سے راستے کا فاصلہ معلوم ہوسکتا ہے اھ مختصرًا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
قدمت ماھوا لاظھر الاشھر[2]۔ |
میں مشہور اور اظہر کو پہلے لاتا ہوں(ت) |
طحطاوی وردالمحتار میں ہے:
|
قدمہ قاضی خاں فکان ھوالمعتمد [3]۔ |
قاضی نے اس مسئلے کو پہلے ذکر کیا ہے لہذایہی قابل اعتماد ہے۔ (ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
الاصح ان ھذہ الشہادۃ مقبولۃ علی کل حال کذافی المحیط[4]۔ |
یہ شہادت بہر صورت مقبول ہے جیسا کہ محیط میں ہے۔ (ت) |
اور یہاں طریق حکم واضح ہے جسے عنقریب بیان کریں گے ان شاء اﷲ تعالٰی ظاہر ہے کہ شہادت اس امر کے لئے درکار ہوتی ہے جس میں فریقین مختلف ہوں نہ کہ اس کے لئے جس میں اتفاق ہو ایك سو پندرہ روپے کے عوض زیور رہن رکھا جانا اور اس کا دو سو روپے بھر وزن میں ہونا مرتہن کو خود قبول ہے تو وزن پر شہادت کی اصلًا حاجت نہ تھی،اختلاف اس میں تھا کہ زیور چاندی کا تھا یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع