30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا اختلاف قرار دیاجائے گا حالانکہ رب عزوجل فرماتا ہے:
|
"اَ فَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الْقُرْاٰنَ ؕ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنۡدِ غَیۡرِ اللہِ لَوَجَدُوۡا فِیۡہِ اخْتِلٰفًا کَثِیۡرًا ﴿۸۲﴾ "[1] |
کیاقرآن میں تدبر نہیں کرتے اگر یہ غیراﷲ کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں کثیرا ختلاف پاتے۔(ت) |
اور اسکی تو لاکھوں مثالیں ملیں گی کہ بہت باتیں جو قرآن عظیم نے ذکر قصص میں ترك فرمائیں رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام نے بیان فرمائیں،کیا یہ اﷲورسول کا اختلاف بیان ٹھہرے گا والعیاذ باﷲ تعالٰی۔اختلاف دوم کی بھی حالت اسی کے قریب ہے گواہ اول نے مدعی کا ایك کاغذ لکھنا بیان کرکے صاف کہہ دیا کہ یادنہیں کس نے لکھا تھا تووہ اس کے کلام میں ذکر تحریر کالعدم ہوگیا،ایك شخص کہے زید نے فلاں کام کیا دوسراکہے یاد نہیں کس نے کیا تو اس میں کیا اختلاف بیان ہوا،معہذا اگر اس کا وہی قول لیجئے کہ مدعی نے ایك کاغذ لکھا تو اس کے کلام میں یہ کہاں ہے کہ مدعا علیہ نے کچھ نہ لکھا اسکا ترك ذکر ہے نہ ذکر نفی اور گواہ دوم مدعا علیہ کا ایك رقعہ لکھنا بیان کرکے کہتا ہے اور کوئی رقعہ نہیں لکھاگیا تھا یہ بظاہر اس تقدیر پر کہ گواہ اول کے بیان میں مدعی کا کاغذ لکھنا بالجزم فرض کرلیں اختلاف مذکورہ فیصلہ سے زیادہ اختلاف موہوم ہوسکتا ہے کہ وہاں اثبات تھا اس میں نفی ہے مگر ذی علم فاضل مجوز نے اسے قلم انداز فرمایا اور وجوہ اختلاف میں نہ لیا اور ایسا ہی چاہئے تھا کہ یہاں اثبات ونفی ایك شیئ پروارد نہیں جس سے اختلاف پیدا ہو عرف ناس سے آگاہ اول نے لفظ رقعہ نہ کہا کاغذ کہا وہ رقعہ سے عام ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو مستلزم نہیں ممکن کہ عام دوسرے فرد کے ضمن میں متحقق ہو یعنی مدعی نے کوئی رقعہ لکھا ہو بلکہ اور کوئی کاغذمثل یا دداشت فہرست زیور وغیرہ تحریر کیا ہو،اس میں کیا تناقض ہوا،ذی علم مجوز کا یہ فرمانا کہ حالانکہ مدعا علیہ فارسی لکھنا نہیں جانتا معلوم نہیں کس بنا پر ہے کیا مدعا علیہ کا زبانی انکار ہوا وہ مان لیا،یا اس کی نفی پر کوئی شہادت گزری حالانکہ ایسی نفی پر شہادت اصلًا مسموع نہیں۔شخص غیر اور خود مدعا علیہ کے لکھنے میں کیا منافات ہے اگر اظہار گواہ دوم میں یہ لفظ کہ اپنے ہاتھ سے لکھا نہ ہو جب تو ظاہر ہے کہ لکھوانے کو لکھنا بر ابر عرف شائع ہے خود اسی فیصلہ میں مجوز نے فرمایا کہ مدعی نے تفصیل زیور عرضی دعوی میں تحریر کی وزن ہر عدد کا تحریر کیا حالانکہ عرضی دعوٰی غالبًا وکلاء لکھتے ہیں نہ کہ خود مدعی۔اور اگر اظہار میں اپنے ہاتھ سے لکھنے کا ذکر ہے جب بھی کیا دونوں کا لکھنا جمع نہیں ہوسکتا۔کیا اکثر ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی خود مسودہ کرکے جس کے متعلق ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع