30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقاما البینۃ علٰی ذٰلك تقبل کذافی الخلاصۃ[1]۔ |
کسی دوسرے کے اشتراك سے دعوٰی کیا کہ یہ حویلی ان دونوں کو میت سے وراثت میں ملی ہے اور اس پر انہوں نے گواہی پیش کردی تو گواہی مقبول ہوگی۔خلاصہ میں اسی طرح ہے۔(ت) |
مدعی کی لغو بیانی کبھی ہر گز ثابت نہیں،چاندی کا نرخ کم ہونا اسے مستلزم نہیں کہ دو سو روپے کا قیمتی نہ ہوسکے،کیا صنعت کوئی چیز نہیں،کیا اس سے شے کی مالیت"اضعافا مضاعفہ"نہیں ہوجاتی دہلی کے سادہ کاری کے چھلے،انگوٹھیاں،نونگے،تعویذ،وزن میں حباب کے مثل ہوتے ہیں اورقیمت کس درجہ زیادہ۔ولہذا شرعًا حکم ہے کہ ان کی زکوٰۃ خلاف جنس سے دی جائے تو قیمت صناعی کا اعتبار ہوگا نہ کہ وزن کا،معراج الدرایہ و نہرالفائق وردالمحتار وغیرہا میں:
|
لہ ابریق فضۃ وزنہ مائتان وقیمتہ ثلثمائۃ[2]۔ |
کسی کاچاندی کا کوزہ جس کا وزن دو سو درہم ہے اور اس کی قیمت تین سو درہم ہے۔(ت) |
نیز جامع الرموز و شامی وغیرہما میں:
|
ابریق فضۃ وزنہ مائۃ درہم وقیمتہ بصناعتہ مائتان[3]۔ |
چاندی کا کوزہ وزن سو درہم اور اس کی بناوٹی قیمت دو سودرہم ہے۔(ت) |
وغیرہ ذلك تصریحات فقہائے کرام دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ سوروپے بھر زیور کی بھی قیمت دو سو روپے بلکہ زائدہوسکتی ہے نہ کہ دو سور وپے بھر کی قیمت دو سوروپے ہونا محال ٹھہرے،اختلاف گواہان کی وجہ اول تو سخت عجیب ہے،شفیع خاں کا اس وقت ہمراہ مدعی ہونا اگر ایك گواہ نے بیان کیا تو دوسرے نے اس سے انکار تو نہ کیاکہ باہم اختلاف گما ن کیا جائے اسے اصل مقدمہ سے کیا تعلق تھا جس کا بیان ہر گواہ رپر لازم ہوتا ہے اور بفرض باطل اگرلازم ہوتا بھی تو دوسرے کا بیان بوجہ ترك امر ضروری ناقص ٹھہرتا اختلاف شہادت اس وقت بھی نہ کہہ سکتے کہ ذکر وعدم ذکر تخالف نہیں بلکہ ذکر وذکر عدم،ہم بار ہافیصلہات ریاست کے ایسے خود قرار دادہ اختلاف پر بحث کرچکے اور آیات قرآنیہ سناچکے ہیں کہ ایك ہی قصے کے بیان میں رب عزوجل نے ایك جگہ ایك بات ذکر فرمائی دوسری جگہ ترك فرمائی کیا معاذ اﷲ اسے قرآن عظیم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع