30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاشھاد حلف علی البینات ولو برھن فبینۃ الشفیع احق۔[1] |
طلب سے انکار کرے تو بینہ پر حلف لیاجائے اور اگر بینہ پیش کریں تو شفیع کا بینہ اولی ہوگا۔(ت) |
نیز نقل کیا:
|
مشتری میگویدکہ تو روز پنجشنبہ دانستہ وطلب نکردہ قول قول مشتری بود لانہ ینکر الطلب والبینۃ علی الشفیع[2]۔ |
مشتری کہتا ہے تو نے جمعرات جان لیا اور مطالبہ نہ کیا تو مشتری کا قول معتبر ہوگا کیونکہ وہ طلب کا منکر ہے اور بینہ شفیع پر ہے۔(ت) |
نیز عالمگیری سے لکھا:
|
اقام المشتری بینۃ ان الشفیع علم بالبیع ولم یطلب الشفعۃ واقام الشفیع البینۃ انہ طلب حین علم فالبینۃ بینۃ الشفیع[3]۔ |
مشتری نے گواہی پیش کی کہ شفیع نے بیع کا علم ہونے کے باوجود شفعہ کا مطالبہ نہ کیا اور شفیع نے گواہی پیش کردی کہ اس نے علم ہوجانے پر شفعہ کا مطالبہ کیا ہے تو شفیع کی گواہی معتبر ہے۔(ت) |
اسی طرح بقیہ عبارت میں تصویر مسئلہ دعوٰی طلب وانکار طلب میں ہے اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ نفی مجرد پر گواہی مقبول نہیں فان البینات للاثبات کما اثبتہ الائمۃ الاثبات(تو بیشك شہادت اثبات کےلئے ہوتی ہے جیسا کہ ائمہ نے اسکوثابت کرنا ہے)مگر یہاں مشتری یا اسکے گواہوں نے صرف انکار طلب پر قناعت نہ کی بلکہ صاف یہ کہا کہ بعد بیع شفیع کو اطلاع دی گئی اور اس نے لینے سے صریح انکار کیا یہ شہادت نفی نہیں شہادت اثبات ہے اور اس کی تاریخ مقدم ہے اور گواہی گواہان شفیع اس کے معارض نہیں ہوسکتی ان کا علم اس قدر کو محیط ہے جتنا شفیع سے وقت رجسٹری صادر ہوا انہوں نے ہر گز نہ کہا کہ اس سے پہلے شفیع نے لینے سے انکار نہ کیا تھا یا شفیع کو اس سے پہلے علم بالبیع نہ ہوا تھا اور نہ وہ ایسا کہہ سکتے تھے اور اگر کہتے تو مقبول نہ ہوتاکہ اب انکی شہادت شہادت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع