دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

محمد توفیق خاں نے جولیا ہے میں نے اپنے شفعہ میں لیا اس مکان کا میں شفیع ہوں۔فیاض خاں کہتا ہے کہ اسد علی خاں یعنی بائع نے کاغذ رجسٹرار کے سامنے پیش کیا رجسٹرار صاحب نے کاغذ پڑھ کر سنایا تو عبدالعلی خاں نے کہا کہ رفیق خاں نے جو زمین بیچی ہے میں نے اپنے شفعہ میں لی،اور بیان کرتا ہے کہ کاغذ رجسٹرار صاحب نے اول سے آخر تك مدعی مدعا علیہ کو سنایا تھا یہاں طلب شفیع کو سنانے پر مرتب کرتا ہے اور سنانا اول سے آخر تك کہتا ہے تو مواثبت کا ثبوت درکنار ظاہرًا مواثبت فوت ہوئی غالبًا انہیں وجوہ سے ذی علم مجوز نے بھی ان تین گواہوں کو نظر انداز کیا اگرچہ نہایت قابل افسوس یہ بات ہے کہ یہ گواہان مدعی ہوکر خود ان کے مقر اور بیان مدعا علیہ کے موافق شہادت دے رہے ہیں اسے نظر انداز کرنا قرین انصاف نہ تھا کچھ بیان اس کا عنقریب آئیگا ان شاء اﷲ تعالٰی،رہے تین گواہ اور فیصلہ کا سارا دار ومدار انہیں پر ہے ان میں رجسٹرار صاحب کی گواہی تومحض کالعدم ہے وہ طلب مدعی کے وقت بائع ومشتری کا موجودہونا ضروربیان کرتے ہیں مگر ان لفظوں کا نہ کہ ان کے مصداق کا۔ شہادت وہ ہے جو اپنے علم سے ناشی ہو اور وہ اتنا بھی نہیں کہتے کہ بائع ومشتری اگر میرے سامنے آئیں تو ان کو شناخت کرلوں گا بلکہ اسے بھی اس شرط پر مشروط کرتے ہیں کہ اگر یاد آگئے تو شناخت کرلوں گا پھر مدعی نے نہ ان سے شناخت کرانے کی کوشش کی نہ ظاہر ہوا کہ انہیں یاد آئے یا نہیں تو ایسی گواہی محض پادر ہوا ہے وقت رجسٹری نسبت حاضری تسلیم مشتری ہرگز اس کا اقرار نہیں کرتا کہ شفیع نے میرے سامنے طلب کی رجسٹری امر آنی نہیں امر ممتدزمانی ہے،اس ناقص گواہی کی تکمیل ذمہ مدعی تھی وکلائے مدعا علیہ پر کیا ضرور تھا کہ گواہی مدعی کے رفع نقصان کی درخواست کرتے تو فیصلہ کی یہ تحریر کہ رجسٹرار صاحب کی بابت نسبت شناخت عاقدین کے وکیل مدعا علیہ نے کوئی درخواست پیش نہیں کی اور سکوت کیا تو یہ سکوت دلیل تسلیم کی ہے،نہایت عجیب ہےجب گواہی مخالف میں صریح نقص موجود ہے تو سکوت کیا تو سکوت اس بنا پر ہوگا کہ وہ خود ہی ناقص و نامکمل ہے ہمیں اس گفتگو کی کیاحاجت،نہ یہ کہ سکوت کیجئے تو ناقص کو کامل مان لیجئے یہ کون ساقاعدہ عقل یا نقل کا ہے،نہیں نہیں بلکہ یوں کہئے کہ گواہی محض نامکمل تھی اور اس کی تکمیل اپنے نفع کےلئے مدعی پر لازم تھی تو مدعی کا سکوت صاف دلیل ہے کہ وہ اس کی تکمیل سے عاجز تھا یا کم از کم اس کو مکمل کرنا نہ چاہا اور ناقابل اسناد رکھا بلکہ غور کیجئے تو غالبًا صاف ثابت ماننا پڑے کہ رجسٹرارصاحب کو نہ عاقدین یاد آئے نہ ان کی شناخت کرسکے،اظہارات سے ظاہر ہے کہ وہ بمواجہہ عاقدین لئے گئے متعدد گواہوں نے ان حاضرین کواشارہ سے بتایا رجسٹرار صاحب اگر پہچان سکتے تو صاف کہتے کہ وہ دونوں یہ ہیں مولوی نعمت اﷲنے اتنا بھی نہ کہا کہ طلب مدعی کے وقت بائع ومشتری موجود تھے صرف اس قدر کہا کہ یہ یاد نہیں کہ سوا ملازمین رجسٹری اوربائع ومشتری اور عبدالعلی خاں کے کوئی اوراس وقت تھا یانہیں،


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن