دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

مسئلہ۸۴:                               ازلاہور محلہ بازارحکیماں مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ٹونکی                         ۲۳/شعبان ۱۳۲۳ھ

سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ جس قاضی کو تقلید قضا از جانب سلطان وقت یا از جانب عام رعایا حاصل ہوا اور وہ ازجانب مقلد خود ماذون بخلافت ونیابت بھی ہو وہ قاضی حاکم عدالت شریعت کو کسی مقدمہ خاص میں یہ تحریر لکھیں حال یہ کہ وہ حاکم عدالت شریعت بھی قاضی کے ماتحتوں میں سے ایك حاکم ہے(کہ اگر ہمشیرگان زید کا حصہ مال زید میں ہو تو بعد تحقیق دلایاجائے)اور بعد چند روز حاکم مذکور کو یہ تحریر بھیجے کہ فلاں مقدمہ کافیصلہ بہت جلدی کرکے حکمنامہ بعجلت میرے حضور میں پیش کریں پس حاکم شریعت نے بعد تحقیقات شرعی باتفاق مفتیان عدالت کل عذرات مدعا علیہ دفع کرکے ہمشیرگان زید کو متروکہ زید میں ڈگری دلائی،اب یہ امر دریافت ہے کہ اس ڈگری دلانے کو حکم قاضی کہنا چاہئے یا کیا،اور اس حکم مجمع علیہ کو تاوقتیکہ خلاف کتاب اﷲ وسنت مشہورہ واجماع نہ ہو خودحاکم شریعت مذکور یا قاضی دیگر اس کا نقض کرسکتا ہے شرعًا بعد ایك زمانہ کے یانہیں،اور اگر حاکم مذکور نے حکم مذکور نقض کرکے خلاف حکم اول حکم دے دیا تو قابل اجراء شرعًا حکم اول رہے گا یاثانی۔

سوال دوم:ایك شخص رئیس ریاست اسلام ہے جس کو عزل ونصب اہلکار وعمالان ریاست کا اختیار حاصل ہے اور اس کو قاضی ماذون بالخلافت بھی کہہ سکتے ہیں اس رئیس نے کسی ایسے شخص کو جو اس رئیس کا نائب فی التحریر ہے یہ حکم دیا کہ یہ شخص فلاں مقدمہ کا فیصلہ شرعی کردے اس حکم کے بعد اس نائب نے اس مقدمہ میں فیصلہ شرعی کردیا پس دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ نائب،رئیس کے اس حکم دینے کے بعد نیابت فی القضا کا مصداق ہوسکتا ہے یانہیں اور اس نائب کا حکم شرعی دیا ہوابجائے حکم رئیس کے ہے یانہیں؟نقض اس حکم کا رئیس یا وہ خود نائب کرسکتا ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب :

(۱)والی ملك رئیس خود مختار حاکم اسلام یا بحال حسب روایات جامع الفصولین وتتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا اتفاق رعایا سے قاضی مطلق بنایا ہوا یا ان کا مقلد قاضی ماذون بالاستخلاف جس مقدمہ میں کسی اہل قضا کے فیصلہ کا حکم دے وہ فیصلہ فیصلہ قاضی شرع ہے کسی کو اس کے نقض کا اختیار نہیں مگر جبکہ اپنے مذہب معتمد مفتی بہ کے خلاف واقع ہواہو تو منقوض ہوگا بلکہ راسًا صحیح نہ ہوا اگرچہ خلاف اجماع نہ ہو۔ردالمحتار میں ہے:

القاضی مامور بالحکم باصح اقوال الامام فاذاحکم بغیرہ لم یصح[1]۔

قاضی امام صاحب رحمہ اﷲ تعالٰی کے صحیح ترین قول پر حکم کا مامور ہے اگر اس کے بغیر حکم کیا تو وہ حکم صحیح نہ ہوگا۔(ت)

 


 

 



[1] ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۴۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن