30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اب کسی نے نہ پہچانا یہاں تك کہ وہ اپنی بھانجی کے گھر میں آگئی،یہاں کی عورتیں اجنبی جوان کو آتے دیکھ کر ضرور گھبرائی ہوں گی مگر یہ محل اس کے کھل جانے کا تھا اس کے اتنے کہنے پر کہ میں ہوں عصمت جہاں بیگم،وہ گھبراہٹ اب اس تعجب سے بدل گئی ہوگی کہ تم اس وقت اس وضع میں کہاں،اور اس کا اس نے وہی جواب دیا ہوگا جو اپنی خود مختاری کے اظہار میں کہہ چکی تھی کہ میری سوتیلی ماں مجھے زہر دئے دیتی ہے میرا نکاح کردو ورنہ پہلے کی طرح پھر چلی جاؤں گی وہ خوب سمجھ لی تھی کہ اس کی آزادی قائم کرنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو یہی نکاح ہے کہ اس کے بعد وہ لوگ مجبور ہوجائیں گے،شوہر کا گھر اسٹیشن کا کمرہ نہ ہوگا جہاں سے ضامن شاہ خاں پکڑلے جائیں اس نکاح کے لئے ضرورتھا کہ اس کے اعزہ واقارب واہل محلہ نہ بلائے جائیں کہ یہ تو بالکل برعکس مراد ہوتا تو اس کو یہاں قرینہ بے اصل دعوٰی ٹھہرانا اصل مطلب سے غفلت پر مبنی ہے۔تلاشی کے وقت اچکن ٹوپی کا مدعی کے یہاں سے بر آمدن ہونا بھی اسی کا مؤ ید ہے کسی طرح قرین قیاس نہیں کہ لوگ ڈاکہ ڈالنے جائیں اور فقط روپے آٹھ آنے کے دو استعمالی کپڑے لے کر چلے آئیں پھر انہیں اپنے یہاں رکھ چھوڑیں یہاں تك کہ کئی دن بعد تلاشی میں نکلیں حالانکہ کپڑا فورًا پہچانے جانے کی چیز ہے،لاجرم وہ اسی طرح آلئے جس طرح مدعی بیان کرتا ہے اور انہیں گھر میں رکھنے سے احتراز نہ کیا کہ خود پہننے والی ہی موجودتھی اوراس نے اپنی خوشی سے نکاح کیا تھا مدعی مطمئن تھا کہ فساد نہ اٹھے گا آخر کئی روزتك اس کے چچا،بھائی خاموش رہے۔تھانے میں بھی خبر نہ کی بلکہ چچا اور بھائی اور بہنوئی خود یہاں آکر اس سے مل گئے جیسا کہ حبیب النساء بیگم و عصمت جہاں بیگم و نہال الدین خاں کے اظہار سے ثابت ہے وہ اقرار کرتا ہے کہ محمد رضاخاں مجھ کو اندر مکان کے لے گئے تھے اوردوسرے اظہار میں یہ بھی لکھایا ہے کہ محمد رضاخاں نے لڑکی سے کہہ دیا تھا کہ تمہارے بھائی آتے ہیں،کیا جو کوئی بھگا کر لاتا ہے اس کے بھائی کو یوں مکان کے اندر لے جاتا ہے،آگے نہال الدین خاں کا کہنا کہ بعد لے جانے کے محمد رضاخاں نے مجھ سے کہا کہ تم کیوں آئے ہو چلے جاؤ ہم تم کو ماریں گے،محض نامقبول ہے،ان لوگوں کو نامنظور ہوتا تو پہلے ہی مکان میں کیوں جانے دیتے،ہاں شاید اس نے اندر جاکر اپنی بہن کو کچھ بھکانا یا دھمکانا شروع کیا ہو،اس پر محمد رضاخاں نے ایسا کہا ہو،نیز مدعی کو اطمینان تھا کہ کسی نے فساد چاہا بھی تو عصمت جہاں بیگم جوان عورت خود مختار ہے،اس پر کسی کی ولایت جبر یہ نہیں وہ اپنی عصمت پر تہمت نہ رکھے گی،اور ہوا بھی ایسا ہی،وہاں جواس کا اظہار ہوا ہے اس میں سارا واقعہ کہہ سنایا مگر جب بالجبر باپ کے یہاں بھیج دی گئی یہاں اسے پڑھایا ہوا سبق پڑھنا پڑا،اس سلسلہ وار قرین قیاس واقعہ کو دیکھ کر کچھ بھی ا س کا تعجب نہیں رہتا کہ عصمت جہاں بیگم نے کیونکر بوستاں خاں سے خطاب توکیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع