30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے اشتباہ کو چھوڑدینا اصلًا کوئی وجہ نہ رکھتا تھا۔لاجرم قرین قیاس یہی ہے کہ جیسا وہ کہتا ہے وہی واقع ہوا اور اس نے اپنی دیانت خواہ سادگی سے بیان واقعہ میں کوئی تصنع نہ کیا جو گزرا تھا بے کم و بیش وہی بیان کردیا ورنہ وہ بناوٹ چاہتا تو اسے یہ کہنا بہت آسانیاں دیتا کہ عصمت جہاں بیگم ڈولی میں اپنی بھانجی کے پاس آئی اور نکاح کی خواستگار ہوئی،ہم نے دیوانی و ججی دونوں مقدموں کے کاغذات فریقین وگواہان فریقین کے اظہارات بتفصیل دیکھے اصلًاکسی حرف سے نہ تو عصمت جہاں بیگم کے دامن عصمت میں کوئی لوث و التباس نظر آتا ہے نہ بیان حسن رضاخاں میں کوئی امر بعید از قیاس،غیب کا علم عالم الغیب عزجلالہ کو ہے مگر رو دادوں کا ملاحظہ بے رو رعایت حالت واقعہ یہ بتاتا ہے کہ عصمت جہاں بیگم ضرور اپنے نام کی عصمت جہاں ہے حاشا اس پر کسی بدوضعی کا ثبوت نہیں مگر اس کی طبیعت خلقۃً خوش باش وآزادی پسند و لطیف وظریف واقع ہوئی ہے وہ صدموں کا تحمل درکنار محکومی ودست نگری سے بھی بیزار ہے حبیب النساء بیگم اس کی سوتیلی ماں ہے حسب عادت زنان بلکہ رواج عام ہر زمان اس عداوت کے رشتے سے عصمت جہاں بیگم کو اذیت پہنچتی تھی اور کچھ نہ ہو تو کم از کم وہ محض محکوم ودست نگررکھی گئی تھی اس کی آزاد طبیعت اس قید و بند سے بھاگتی تھی جیسا کہ وہ خود اپنے اظہار میں درپردہ شاکی ہے کہ میرے پاس روپیہ علیحدہ نہیں رہتا ہے چچاماں بھائی سے کہہ کر چیز منگاسکتی ہوں ایسی چیز جس کو میرا جی چاہے اور یہ لوگ منع کریں نہیں منگاسکتی ہوں،انہیں وجوہ سے وہ ایك بارتنگ آکر اسٹیشن تك فرار کرچکی اس بار پکڑی گئی اور پھر اس کو اسی قید کا سامنا ہوا اور مظنون ہے کہ اب بوجہ فرار قید وتشد د میں اور اضافہ ہوا ہو،وہ وقت کی منتظر تھی اس کا باپ بمبئی گیا ادھر سوتیلی ماں کو ستانے کا زیادہ موقع ملا ہوگاادھر اس نے اپنی آزادی قائم کرنے کا اچھا وقت پایا سوچی کہ اب کی بار بھی پہلا ہی سا فرار ہوا تو اسی طرح بیکار جائے گا وہ تدبیر کیجئے کہ ہمیشہ کو آزاد ہوجائیے۔حسن رضاخاں سے اس کا بیڑا ہوچکا تھا جیساکہ خود اس کی ماں نے اپنے ایك اظہار میں اقرار کیا ہے اسے سب کے ظاہر ڈولی منگا کر حسن رضا خاں کے یہاں جانے کا حسب رسم زمانہ کوئی موقع نہ تھا لہذا اس کا پاؤں ایك بار کھل چکا تھا رات آنے کی منتظر تھی اس کے یہاں معمولًا آٹھ یا نو بجے رات کو سوجاتے ہیں جیساکہ خود اس نے اپنے اظہار میں لکھایا ہے باپ گھر میں نہ تھا ماں بھائی نوبجے سوگئے اس نے دس بجے راہ مقصود لی اس کے بھائی نے سوتے وقت اچکن ٹوپی اتارکر رکھ دی تھی یہ سمجھی کہ چاندنی رات ہے کہ صفر کی آٹھویں شب تھی اور ابھی راستہ چل رہا ہے جیسا کہ خود اس کی طرف کے اظہاروں میں ہے کہ راہ میں اس کے چچا وغیرہ لوگ ملے تھے اپنے لباس میں کہیں پہچانی نہ جائے لہذابھائی کی شکر گزاری کے ساتھ اس کی اچکن ٹوپی زیب بدن کی اور وہی ہوا جو وہ سمجھتی تھی کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع