دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

سے بلا اطلاع غائب ہوکر اسٹیشن ریلوے رامپور تك جاچکی ہے اس کا بہنوئی پھوپھی زاد بہن کا شوہر تلاش کرتا گیا اور منا لایا،سید مراد علی سب انسپکٹر اسٹیشن رامپور نے لکھایا ۲۵فروری  ۱۹۰۴؁ء میں زبانی ضامن شاہ خاں ولد عادل شاہ خاں کے معلوم ہوا کہ میری حقیقی سالی اچھن بیگم مکان سے ناخوش ہوکر چلی آئی ہے،زنانے کمرہ میں تلاش کرلی جائے،میں نے تلاش کرایا زنانہ کمرے میں موجود ملی،ہمراہ لے کر واپس مکان خود ہوا،سروری بیگم جس کے مکان پر نکاح ہوا عصمت جہاں بیگم کی بھانجی ہے،اپنی بھانجی کے یہاں آنا آخر اسٹیشن تك پہنچنے سے کچھ کم ہی ہوگا،اچھن بیگم جس کاذکر اظہار مذکور میں ہے یہی عصمت جہاں بیگم ہے جیساکہ وہ خود اپنے اظہارمیں کہتی ہے کہ میرے چچاکبھی اچھی کہتے ہیں کبھی اچھن صاحب کبھی اچھن،ضامن شاہ خاں مذکور اسی کا بہنوئی ہے،جیسا کہ وہ خود اپنے اظہار میں کہتی ہے کہ ضامن شاہ خاں میرے داماد جن کے باپ کا نام عادل شاہ خاں ہے عصمت جہاں بیگم کے اس خفیہ چلے جانے کے ذی علم مجوز جج ریاست نے بھی اپنے فیصلہ میں اخذ کیا اور اس سے عصمت جہاں بیگم کے باب میں وہ نتیجہ نکالا جسے فتوٰی میں ذکر کرنا مناسب نہیں،اس کا چند روز تك حسن رضاخاں کے مکان پر رہنا اس کے حقیقی بھائی کا وہیں اس سے ملنے کو جانا اور اس کے باپ کے بمبئی سے آنے تك اس کے حقیقی بھائی حقیقی چچا سب کا چپ رہنا استغاثہ درکنار اطلاع بھی نہ کرنا پھر بمبئی سے آنے کے بعد بھی کئی دن کی خاموشی ہوکر کارروائی چلنا اور عصمت جہاں بیگم کا بجبر پولیس حسن رضاخاں کے مکان سے نکلنا یہ واقعات تو ایسے ہیں جن میں کسی کو انکار کی گنجائش نہیں،ہاں فریقین اس میں مختلف ہیں کہ یہ جانا بجبر تھا یا بخوشی،عصمت جہاں بیگم جبر بتاتی ہے اور وہ شرعًا اس میں مدعی ہے بارثبوت اس کے ذمے تھا اور وہ اس میں محض ناکام رہی،اس کے اور اس کے باپ اور اس کے گواہوں کے اظہار سب عجب عجب تناقضوں اور خلاف عقل و بعید از قیاس باتوں پر مشتمل ہیں جن کو دیکھ کر صاف مترشح ہوتا ہے کہ صنعتی و مصلحتی کہنا انہیں بیانوں کو شایاں ہے ان کے نقائض وقبائح کی تفصیل آسان تھی مگر اس کے ذکر سے حاجت تطویل نہیں کہ خود ذی علم مجوز نے ان پر اعتبار نہ کیا اور عصمت جہاں بیگم کا بالجبر اپنے باپ کے مکان سے لایا جانا مسلم نہ رکھا،آخر فیصلہ میں فرمایا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مدعا علیہا حسب رسم ورواج زمانہ اپنی بھانجی کے گھر کسی ضرورت سے گئی مگر جبر نہ مان کر بیان مدعی و گواہان مدعی مردود ہونے پر قرائن عقلیہ کی کوئی کافی شہادت نہیں،جب عصمت جہاں بیگم کا اس کے یہاں بخوشی جانا مسلم تو مدعی کا اس میں کیا نفع تھا کہ اس کا رات کو پاپیادہ مردانہ لباس میں آنا بیان کرتا کیا اگر ڈولی میں آنا بتاتا تو ثبوت نکاح میں اشکال ہوتا نہیں نہیں بلکہ بظاہر اسی بیان میں شکل اشتباہ تھی جیسا کہ ذی علم مجوز کو واقع ہوا کہ اس کا یوں آنا بعید ازعقل سمجھا تو خلاف واقع ایسی بات کہ اپنے دعوٰی میں شبہہ پید اکرے بیان کرنا اور مطابق واقع صاف صاف


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن