30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کوئی نفع بھتیجی ہونے میں کوئی نقصان تھا پھر ایسے لغو و فضول امر سے جس کے لئے مقدمہ میں کوئی اثر نہیں اعتراض یعنی چہ۔
(۲۹)یہ بھی لغویت قول گواہ مذکور ہے کہ اس نے واقعہ کی مدت قطعی آٹھ ماہ کی بیان کی ہے اور بروئے حساب کہ تاریخ عقد۲۴/اپریل ۱۹۰۴ء ہے تاروزادائے شہادت کہ ۴/دسمبر ۱۹۱۴ء ہے مدت سات ماہ نو دن ہوتے ہیں تو یہ شہادت متعلق کسی واقعہ مقابل کے ہے،
اولًا:سخت حیرت ہے کہ یہاں جو نقل اظہار آئی اس میں صاف یہ لفظ ہیں عرصہ تخمینًا آٹھ ماہ کا ہوا کہاں تخمینًا کہاں قطعًا۔
ثانیًا: اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
"اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوۡمٰتٌۚ"[1] |
زمانہ حج چند ماہ معلوم ہیں۔ |
اشھر بصیغہ جمع فرمایا جس کا اقل تین ہے حالانکہ وہ صرف یکم شوال سے دہم ذی الحجہ تك دو مہینے دس دن اور امام شافعی کے نزدیك نہم تك دومہینے نودن ہیں۔ردالمحتار میں علامہ مصطفی رحمتی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہما کے حاشیہ درمختار میں سے ہے:
|
اطلق اشھر فی قولہ تعالٰی الحج اشھر معلومٰت علی شھرین وبعض الثالث[2]۔ |
اشھر جمع کا اطلاق،اﷲ تعالٰی کے قول"اشھر معلومات"میں دوماہ اورایك ماہ کے کچھ حصے پر کیاگیا ہے(ت) |
جب دو مہینے نو دن کو تین مہینے کہنا جائز ٹھہراتو سات مہینے نودن کو آٹھ مہینے کہنے میں کیاگناہ ہوا،ہاں اگرمحمد حسن خاں قید لگاتا کہ پورے آٹھ مہینے ہوئے یا بے کم وبیش یا کامل تو ضرور اعتراض کا محل تھا،معالم التزیل میں ہے:
|
شوال وذوالقعدۃ وتسع من ذی الحجۃ وانما قال اشھر بلفظ الجمع لان العرب تسمی الوقت تاما بقلیلہ وکثیرہ فیقول اتیتك یوم الخمیس |
شوال،ذوالقعدہ اور نودن ذی الحجہ ہیں،اس کے باوجود اشھر جمع کا لفظ فرمایا،کیونکہ عرب لوگ کچھ وقت کا تمام وقت پر اطلاق کرتے ہیں،وہ کہتا ہے میں جمعرات کو تیرے پاس آیا حالانکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع