30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پردہ سے منہ بھی نکالا تھا میں نے منہ بھی دیکھاتھا پھر ثبوت شناخت کی کیا ضرورت،یہاں بھی وہ مباحث پیش آئیں گے جوامر ۱۹و۲ میں نسبت شہادت جلال خاں گزرے محمد حسن خاں صرف کوٹھری کی آواز کا حاکی نہیں بلکہ آواز والی کو اسی وقت منہ دیکھ کرپہچانے ہوئے ہے۔
ثانیًا: دربارہ نام مدعا علیہا وہ بحث جو زیر امر ۲۲گزری عائد ہے مولوی مسعود خاں کی بیٹی جو اس اظہار کے قابل ہو صرف عصمت جہاں بیگم ہے رفع جہالت کو اس قدر بس ہے اگرچہ نام نہ لیا گیا،یہ اور اس کو باپ کی گواہی ثبوت نکاح کے لئے نہ تھی بلکہ اس سے بیان عصمت جہان بیگم کی تکذیب مقصود ہے کہ وہ برضائے خود آئی ہے نہ کہ دوسری طرح۔
(۲۸)محمد حسن خاں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ تھانہ دار نے نہال الدین خاں او محمود خاں سے کہا تم نے اس کوٹھری میں یہ بھی دیکھ لیا کہ کوئی اور تو نہیں انہوں نے کہا اس میں ہماری ہی بھانجی ہے اور کوئی نہیں یہ قول بھی محمد حسن خاں کاغلط ہے اس لئے کہ مسماۃ نہال الدین کی بہن اور محمود خاں کی بھتیجی ہے نہ کہ بھانجی۔
اولًا:کسی امر عظیم میں اشغال کے وقت کی زبان ایك آدھ لفظ میں بہك جانا کچھ مستبعدنہیں ہوتا محمود خاں کےلئے اس واقعہ کا سخت امر عظیم ہونا باتفاق فریقین ثابت ہے فریق عصمت جہاں بیگم کے طور پر تو ظاہر حتی کہ ایك فیصلہ میں بیان کیا گیا ہے کہ مسعود خاں اسی صدمہ سے دوران مقدمہ مرگیا محمود خان ان کا حقیقی بھائی ہے اگر بھتیجی کا بھانجی شدت صدمہ میں زبان سے نکل جائے کیا جائے تعجب ہے اور فریق حسن رضاخاں کے طور پر یوں کہ معاذ اﷲ حقیقی بھتیجی نوجوان کنواری باپ کے یہاں سے بھاگ کر ایك شخص کے یہاں چلی گئی اور خود نکاح کرلیا اور باپ بالجبر بلانا چاہتا ہے تو چچا اور بھائی کے سامنے یہ صاف صاف اظہار میں تھانے دار کو کہہ رہی ہے میں نہیں جانتی کون سے پیڑ پر رہتے ہیں کس باغ کی مولی ہیں عیاذا باﷲ یہ کیا تھوڑے صدمہ کا مقام ہے،پھر اتنی زبان بہکنا کیا محال،اور جب یہ ممکن اور ضرور ممکن تو مجوز ذی علم نے کیونکر یقین کرلیا کہ یہ محمد حسن خاں کی غلطی ہے،کیا متحمل نہیں کہ محمود خاں ہی کی غلطی ہو اسی نے گھبراہٹ اور سخت رنج کی حالت میں بھانجی کہا محمد حسن خاں نے جو اس سے سنا وہی نقل کردیا اسے اپنی طرف سے تصرف کا کیا اختیار تھا مع ہذا کیا محال ہے کہ عصمت جہاں بیگم کی ماں محمود خاں کی رشتہ کی بہن ہو تو بھانجی کہنے میں کوئی غلطی بھی نہیں۔
ثانیًا:بالفرض اگر یہ لغزش محمد حسن خاں ہی نے کی تو کیا الزام ہے کیایہاں عصمت جہاں بیگم کی نسبت وقرابت کاکوئی مقدمہ پیش تھا کہ بھتیجی کی جگہ بھانجی کہنے میں فرق پڑگیا یا شاید خواہ مدعی کا اس کے بھانجے ہونے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع