30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اماقول الدرالشہادۃ اذا بطلت فی البعض بطلت فی الکل [1]فقد حققنا فیما علقنا علی ردالمحتاران معناہ ان المشہود بہ الواحد لایقبل مرۃ ویرد اخری بل اذارد رد مطلقًا ابدا الااذاکان لہ تعلق بامرین وقام بہ وجہ الرد نظر االی احدھمادون الاٰخر کما فی صور الاستثناء الثمان منہا شرب الخمر الثابت بشھادۃ رجل وامرأتین یقبل فی حق العتق والطلاق المعلقین بہ لا فی حق الحد اذلا شہادۃ للنساء فی الحدود وھکذا فی البواقی ولیس المراد ان الشاہد بعدۃ امور فردت شہادتہ فی احدھما لا یختص بہ لانقدح فی الشاھد ردت فی الامور الباقیۃ ایضا فان ھذا باطل قطعا[2]ثم ذکرت الفرعین المذکورین۔ |
لیکن در کا یہ قول کہ جب بعض شہادت باطل ہوئی تو کل باطل ہوجائے گی،تو اس کی تحقیق ہم نے ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں کردی ہے کہ اس کا معنٰی یہ ہے کہ ایك مشہود بہ(جس بات کی شہادت دی جارہی ہو)کو ایك دفعہ رد کرنے پر دوبارہ قبول کرنا جائز نہیں،جب کردیا تو رد ہی ہوگا دوبارہ قبول کرنا جائز نہ ہوگا بشرطیکہ اس ایك مشہود بہ کا تعلق دو مختلف صورتوں سے نہ ہو اور اگر اس کا تعلق دو مختلف صورتوں سے ہے اور ایك صورت رد کی ہے دوسری نہیں ہے،جیسا کہ آٹھ استثناؤں میں سے ایك یہ کہ شراب خوری جب ایك مرد ا وردو۲ عورتوں کی گواہی سے ثابت ہو تو یہ شہادت شراب خوری سے معلق کردہ امور عتق اور طلاق میں مقبول ہے اور یہی شہادت شراب خوری پر حدکے لئے مقبول نہ ہے کیونکہ حد میں عورتوں کی شہادت جائز نہیں،یوں ہی باقی امور میں بھی۔ ردالمحتار کی عبارت کا یہ مطلب نہیں کہ گواہ جب متعدد امور کی شہادت دے اور ایك میں شہادت اس کی خصوصیت کی بناء پر مردود ہوجائے تو باقی امور میں بھی شہادت مردود ہوجائے کیونکہ یہ بات قطعًا باطل ہے،پھر میں نے اس پر مذکور دو۲ فرعیں ذکر کی ہیں۔(ت) |
(۲۷)محمد حسن خاں کی شہادت اس وجہ سے لغو ہے کہ اس تمام بیان میں کہیں تذکرہ نام مدعا علیہا کا نہیں،نہ کوئی ثبوت اس کی شناخت کا ہے بلکہ ایك حکایت ہے کہ کوٹھری میں سے جوآوازآرہی تھی اس کا اعادہ کیاہے،یہ اعتراض بھی تمام شبہات پر نظرنہ فرمانے سے ناشی ہے،
اولًا:محمد حسن خاں نے جہاں یہ کہا ہے کہ ایك کوٹھری جس میں کواڑ نہیں ہیں پردہ پڑا تھا اس میں سے یہ آواز آرہی تھی کہ میں اپنی خوشی سے آئی ہوں میری سوتیلی ماں سے ہمیشہ رنج رہتا تھا میرے والد مولوی مسعود خاں شہر میں نہیں ہیں حسن رضاکے ساتھ میرا بیڑا بھی ہوچکا تھا اس وجہ سے میں یہاں چلی گئی اور ان سے آکر کہا میرا آج ہی نکاح کردو نہیں تو میں جیسے پہلے چلی گئی تھی ویسے ہی چلی جاؤں گی،وہاں یہ بھی کہا ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع