30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہے نہ یہ کہ تعین تاریخ و ماہ وذکر اسماء گواہان ووکالت سےخالی ہونےکے باعث بوجہ جہالت غیر مفید ہے شہادت نکاح میں ان اشیاء سے کسی کا ذکر اصلًا لازم نہیں،تاریخ وماہ کی نسبت عبارات نمبر ۲۰ میں گزریں اور وکالت واسمائے گواہان کا ذکر اس سے بھی زیادہ لغووغیرضروری،کیا ذی علم مجوز کسی کتاب سے ثبوت دے سکتے ہیں کہ شہادت نکاح جب تك اسماء گواہان و وکالت کا ذکر نہ ہومردود ہے؟ہرگز نہیں،رہا اسم منکوحہ اگرچہ قاضی صاحب نے عصمت جہاں بیگم کا نام زبانی نہ لیا صرف اتنا کہا کہ نام رجسٹرمیں لکھا ہے مگر یہ ضرور کہا کہ مسعود خاں کی دختر نے اپنے نفس کا اختیاردیا مسعود خان کی دختر جو اپنے نفس کا اختیار دینے کے قابل ہو ایك یہی عصمت جہاں بیگم ہے،اس کی دو چھوٹی بہنیں بہت صغیر سن ہیں کہ کسی تصرف کی اجازت دینے کے قابل نہیں اور مقصود منکوحہ کا تعین ہے اگرچہ کسی طرح ہوکچھ نام لینے ہی کی ضرورت نہیں مثلا گواہ گواہی دیں کہ زید نے اپنی بڑی لڑکی کا نکاح کیا شہادت مقبول ہے یہاں تك کہ اگر گواہ یہ بھی کہیں کہ مگر ہم نہیں جانتے کہ یہ مدعا علیہا زید کی بڑی لڑکی ہے جب بھی گواہی مقبول ہوگی اور مدعی سے اس پر گواہ لئے جائیں گے کہ یہی مدعی علیہا ا سکی دختر کلاں ہے،
عالمگیریہ میں ہے:
|
فی الخزانۃ قال زوج الکبری لکن لاندر الکبری یکلفہ باقامۃ البینۃ ان الکبری ھذہ[1]۔ |
خزانہ میں ہے کہ گواہوں نے بڑی لڑکی کا ذکرکیا اور ساتھ ہی کہا لیکن ہمیں بڑی لڑکی کا تعارف نہیں ہے تو گواہوں کو پابند کیاجائیگا کہ بیان کریں کہ بڑی لڑکی یہ ہے۔(ت) |
جامع الفصولین میں ہے:
|
شھدا انہ زوج بنتہ منہ ولا نعرفہا بوجھھا فلو لم تکن لہ الابنت واحدۃ تقبل لزوال الجھالۃ[2]۔ |
گواہوں نے شہادت دی کہ اس نے اپنی لڑکی کا فلاں سے نکاح کیا ہے لیکن ہم لڑکی کو چہرہ سے نہیں پہچانتے تو اگر اس شخص کی ایك ہی لڑکی ہو تو شہادت قبول کی جائیگی کیونکہ جہالت نہ رہی(ت) |
(۲۳)محمد جان کی شہادت ضرور لغو و مہمل ہے کہ وہ صراحۃً کہتا ہے میں نے نہ سنا کیا نام مسماۃ کا لیا تھا اور نام کے علاوہ بھی کوئی پتہ اصلًا نہیں بتایا مگر علی حسین کی گواہی اگرچہ لغو رہی کہ ناکح ومنکوحہ کسی کانام نشان نہیں لیکن انصافًا،وہ لغو رکھی گئی شاہد جب ایسی گول مجمل بات کہے تو حاکم کو حکم ہے کہ اس سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع