30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گیا تھا اس کا یہ نام ہے جب بھی قبول کرلیں گے اور شہادت میں اصلًا نقص نہ جانیں گے کہ ان ناموں کا بیان سے رہ جانا کوئی محل تہمت نہیں اوراگرمجلس ہنوز نہ بدلی جب تو موضع شبہہ و تہمت کی تبدیلیں بھی قبول کرلیں گے مثلًا گواہی دی کہ اس مدعی کے اس مدعا علیہا پر ہزار روپے آتے ہیں،ختم شہادت کے بعد کہا میں بھول گیا تھا پانسو آتے ہیں یا مجھے یاد نہ رہا تھا دوہزار آتے ہیں ان تبدیلیوں سے قبول شہادت میں کچھ فرق نہ آئے گا جبکہ مجلس ہنوز نہ بدلی ہو اور شاہد شاہد شرعی ہو یہاں کہ نہ مجلس بدلی نہ شاہد نے کوئی تبدیلی کی صرف ایسی بات بیان کرتا ہے جس میں بتصریح علماء تہمت نہیں اور اس کا تدارك ادائے فریضہ شہادت کے لئے اس پر لازم تھا بعد سماع اظہار اس کے بڑھانے کو وجہ نقص قرار دینا اصلًا صحیح نہیں ہوسکتا،کافی وبحرالرائق وعنایہ وعالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
|
واللفظ لہذہ ان کان عدلا قبلت شہادتہ فی غیر موضع الشبھۃ مثل ان یدع لفظۃ الشہادۃ او یترك ذکر اسم المدعی او المدعی علیہ اوالاشارۃ الٰی احدھما سواء کان فی مجلس القضاء اوفی غیرہ اما فی موضع شبھۃ التلبیس کما اذا شہد بالف ثم قال غلطت بل ھی خمسمائۃ او بالعکس تقبل اذا قال فی المجلس، وبعد ماقام عن المجلس فلم تقبل[1] اھ باختصار۔ |
الفاظ عالمگیری کے ہیں،اگر گواہ عادل ہوتو موضع شبہہ کے غیر میں اس کی یہ شہادت کہ لفظ شہادۃ یا مدعی یا مدعی علیہ کانام یا دونوں میں سے کسی ایك کی طرف اشارہ چھوٹ گیا مقبول ہوگی خواہ مجلس قضاء ہو یا غیر ہو لیکن مقام شبہہ میں مثلًا پہلے اس نے ہزار کی شہادت دی اب کہتا ہے یہ غلطی ہوئی بلکہ پانچ سو ہے یا اس کا عکس کرتا ہے تو مجلس قضاء میں قبول کی جائیگی اور مجلس قضاء ختم ہونے کے بعد قبول نہ ہوگی اھ اختصارًا(ت) |
رابعًا: بفرض غلط یہ بھی سہی کہ جلال خاں کا پچھلا الحاق نہ مانا جائے گا پھر کیا ہو اسی قدر ناکہ عصمت جہاں بیگم کانام اس نے نہ لیا مگر اس سے غیر معین عورت پر شہادت کہاں سے لازم آئی وہ صراحۃً کہہ رہا ہے کہ میں نے اس عورت کا منہ دیکھاتھا،نام سے تو وہ تعیین ہو بھی نہیں سکتی جو منہ دیکھنے سے ہوتی ہے تو وہ ضرورایك معین عورت پر گواہی دے رہا ہے جو اس کی دیکھی ہوئی ہے ہاں مجوز کو معلوم نہ ہو اکہ عصمت جہاں بیگم ہی وہ عورت ہے جسے گواہ نے دیکھا اور اس پر گواہی ادا کی یا وہ کوئی اور عورت تھی ہم اوپر بیان کرآئے کہ اس کا چارہ کار مجوز کے ہاتھ میں تھا نہ کہ گواہ کے،مجوز نے عصمت جہاں بیگم کو کیوں نہ بلوایا شاہد کے سامنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع