30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۸)جو واقعات محمد حسن خاں نے لکھائے محمد حسین خاں نہیں لکھاتا کیونکر لکھاتا حالانکہ وہ اظہار عصمت جہاں بیگم کے بعد آیا تھا جیسا کہ محمد حسن خاں نے بیان کیا محمد حسین خاں اگر وہ سب واقعات لکھاتاتو اس بیان محمد حسن کی تکذیب کہ اظہار ہوچکا تھا کچھ باقی تھا جب میرے والدآئے،یہ طرفہ بات ہے کہ دلیل کذب نہ پائے جانے کو دلیل کذب قرار دیا جاتا ہے،______معہذا پر واضح ہوچکا کہ اگر دونوں معًا آتے اور ایك کچھ واقعات بیان کرتا کہ دوسرے کے بیان میں نہ آتے ہرگز اختلاف نہ تھا کہ عدم ذکر ذکر عدم نہیں،یہ تھے وہ تمام بے اصل وبے اثر اختلافات جن کی بناء پر ذی علم مجوز نے شہادتوں کو رد فرمادیا اب شہادات پر دیگر اعتراضات کی طرف چلئے۔
دیگر اعتراضات
(۱۹)جلال خاں نے تمام اظہار میں مدعا علیہا کا نام نہ لیا اس کا اظہار نسبت ایك عورت غیر معین کے قلمبندی ہوا ہے بعد پورا لکھا دینے اظہار کے اس نے کہا اور کچھ نہ لکھاؤں گا بعد سننے اظہار اور کرنے انکار کے اس نے بیان کیا کہ جس کا یہ نکاح ہوا تھا اس عورت نے اپنا نام عصمت جہاں بنت مولوی مسعود خاں بتایا تھا،
اولًا:یہاں جو نقل اظہار جلال خاں آئی اس میں شروع سے یہ لفظ ہیں،محمد رضاخاں نے مجھ سے کہا یہ عورت عصمت جہاں بیگم حسن رضاخاں کے ساتھ نکاح کرتی ہے تم گواہی دو۔پھر یہ لفط ہیں میں گھر میں اندر گیا تو والدہ حسن رضاخاں نے عصمت جہاں کو مجھ کو دکھادیا،تو کیونکر صحیح ہو کہ اظہار میں مدعا علیہا کا نام نہ لیا۔
ثانیًا:کچہریوں کاضابطہ یہ ہے کہ گواہ بیان کرتا ہے اور اہلکار لکھتا جاتا ہے ظاہر ہے کہ کہنے اور لکھنے میں بڑا فرق ہے کچھ الفاط کا رہ جانا مستبعد نہیں ولہذا یہ امر لازم رکھا گیا ہےکہ اظہار لکھ کر گواہ کو سنالیا جائے کہ کہیں کچھ فرق کچھ کمی بیشی ہو تو صحیح ہوجائے اظہار اس وقت مکمل سمجھا جاتا ہے جب بعد سنانے کے تطبیق ہوجائے اب اگر کچھ لفظ لکھنے سے رہ جائیں تو فرمائیے گواہ کیا کرے اگر سکوت کرتا ہے تو اظہار ناقص رہتا ہے بتاتا ہے تو یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ تو بیان سننے کے بعد کہتا ہے اگر واقع ابتدائی اظہار جلال خاں میں وہ فقرے کہ ہم نے اوپر نقل کئے مکتوب نہیں توذی علم مجوز نے بہت مناسب تحریر فرمایا کہ اظہار ایك غیر معین عورت کی نسبت قلمبند ہوا ہے قلمبند یونہی ہوا ہوگا جس کی تصحیح جلال خاں نے سناتے وقت کردی۔
ثالثًا: یہی سہی کہ گواہ نے اولًا تمام اظہار میں عصمت جہاں بیگم کا نام نہ لیا مگر ابھی کہ مجلس اظہار ختم نہ ہوئی گواہ نے وہاں سے قدم نہ ہٹایا اگر ایك امر کہ اگلے بیان کے کسی حرف سے اصلًا مخالف نہ تھا زائد کیاکیا گناہ ہوا خصوصًا وہ بھی کہ شاہد کو اس کا بیان نہایت ضرور تھا،ادائے شہادت کہ اﷲ عزوجل نے اس پر فرض کیا بے اس کے ناقص رہا جاتا تھا،بھلا یہاں تو ابھی مجلس نہ بدلی تھی شاہد وہاں سے ہٹنے بھی نہ پایا تھا،علماء کرام یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر شاہد عدل مجلس شہادت بدلنے کے بعد دوسری مجلس میں آکر کہے کہ جس کے باب میں میں نے گواہی دی اس مدعی کا یہ نام ہے یا مدعا علیہا کانام مجھ سے چھوٹ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع