30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالمامور کما ھٰھنا۔ |
جیسا کہ یہاں ہے۔(ت) |
(۱۶)تعداد مہر مندرج نکاح نامہ اس کا جواب نمبر۱۲میں گزرا،نکاح نامہ اگر ہو تو ایك گواہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا اور گواہ مدعی کے بیان میں اختلاف تعداد مہر دعوی نکاح کو اصلًا مضر نہیں کماعلمت۔
(۱۷)محمد حسین خاں نے اپنا آنا بمکان حسن رضا خاں بروز خانہ تلاشی بہمراہی اپنے پسر محمد حسن خاں کے بیان کیا ہے محمد حسین خاں لکھاتا ہے کہ میرے والد جب آئے تھے کہ اظہار ہوچکا تھا اپنے بعد آنا اپنے باپ کا بیان کیا ہے اولًا: محمد حسین خان کے بیان میں یہ ہے کہ میں آیا اور میرا لڑکا آیا،اس میں ہمراہی کا لفظ کہیں نہیں لفظ(اور)حرف(و)کا ترجمہ ہے جس سے نہ معیت مفہوم ہو نہ ترتیب ہو نہ تراخی نہ تعقیب،صرف اشتراك پر دلیل ہے کما صرح بہ جمیع کتب الاصول(جیساکہ تمام کتب اصول میں اس کی تصریح ہے۔ت)یہاں تو محمد حسین خاں نے اپنے اور اپنے لڑکے کے لئے دو فعل جدا جدا ذکر کئے کہ میں آیا اور میرالڑکا آیا،اگر ایك ہی فعل میں لفظ"اور"کے ساتھ جمع کرتا ہر گز معیت مفہوم نہ ہوتی، اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
" وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنۡ قَبْلَہٗ وَ الْمُؤْتَفِکٰتُ بِالْخَاطِئَۃِ ۚ﴿۹﴾ "[1] |
فرعون آیا اور اس سے پہلے والے اور گناہ کا ارتکاب کرنے والے۔(ت) |
ایك کلمہ جاء میں سب کو جمع فرمایا یہاں اس بیان کی کیا ضرورت کہ فرعون وقوم لوط میں تقریبًا دو ہزار برس کا فاصلہ تھا کہ خود من قبلہ فرعون پر واؤ کے ساتھ معطوف ہے قبلیت و معیت کیونکر جمع ہوئیں۔
ثانیًا: بالفرض محمد حسین خاں یہی کہتا کہ میں اپنے لڑکے کے ساتھ آیا تھا اور محمد حسن خاں کہتا میرے بعد آئے تو اس اختلاف کا بھی کچھ اثرنہ پڑتا،فتاوٰی ظہیریہ و فتاوٰی عالمگیریہ وغیرہما کی عبارت نمبر۳ میں گزری کہ
|
لوقال احدھما کان معنا فلان وقال الاٰخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز ولاتبطل ھذہ الشہادۃ[2]۔ |
ایك گواہ نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہیں تھا تو اصل میں ذکر فرمایا کہ یہ گواہی جائز ہے باطل نہ ہوگی(ت) |
ایك گواہ نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا ہمارے ساتھ نہیں تھا تو اصل میں ذکر فرمایا کہ یہ گواہی جائز ہے باطل نہ ہوگی(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع