30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کیا تھا پس بلادریافت نقشہ میں سکونت اندراج یہ کارروائی برادر مدعی کی ہے جیسا کہ نکاح خوان نے بیان کیا ہے کہ یا دداشت نکاح نامہ برادر حسن رضاخاں سے میں نے لکھائی تھی،اولًا: مقدمہ موجودہ میں نکاح خواں کی شہادت کہ اس عہدہ سے استعفا کے بعد اپنے فعل پر ہے حاکم کو اس کا لینا سننا ہی ممنوع تھا لانہ اشتغال بما لایصح کما سیأتی(کیونکہ یہ غیر صحیح کام میں مشغولیت ہے جیسا کہ آئیگا۔ت)اور جب وہ شہادت شرعًا کوئی چیز نہیں تو اس کے اختلاف سے دعوٰی پر اثر ڈالنا یعنی چہ۔
ثانیًا:قاضی کے اظہار میں یہ ہے کہ حسن رضاخاں کے بھائی سے کاغذ لکھوایا تھا میں نے یہ دریافت نہیں کیا کہ لڑکی کی عمر کس قدر ہے میں نے اور کچھ نہیں پوچھا کہ لڑکی کون سے مکاں میں رہتی ہے اور کوئی بات میں نے نہیں دریافت کی،یہاں اس دریافت کی نفی ہے کہ لڑکی کس مکان میں رہتی ہے،نہ اس دریافت کی کہ کس محلہ میں رہتی ہے،ظاہر ہےکہ مکان محلہ سے خاص ہے ا س سے سوال کی نفی محلہ سے سوال کی نفی نہیں کرسکتی جبکہ سوق عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ محلہ سے سوال کیا کہ وہ کہتا ہے اور کچھ نہیں پوچھا اور کوئی بات دریافت نہ کی،یہ اور کا لفظ بڑھانا ہی صاف کہہ رہا ہے کہ اسی قدر پوچھا اس سے زیادہ کچھ نہ پوچھا اگراس نے اتنا بھی نہ پوچھا ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ اور کچھ نہ پوچھا بلکہ یوں کہتا کہ میں نے کچھ نہ پوچھا ان دونوں محاوروں کا فرق اہل زبان پر ظاہر ہے،رہا یہ کہ آخر کیا پوچھا اس کا پتہ مظہر نے ان لفظوں سے دیا کہ اس نے برادر حسن رضاخاں سے کاغذ لکھوایا تھا یعنی خانہ پری نقشہ کے لئے جتنی ضرورت ہے بس اسی قدر پوچھا اور محمد رضاخاں سے خانہ پری کو کہا اور کچھ نہ پوچھا کہ عمر کتنی ہے کس مکان میں رہتی ہے۔
ثالثًا: اندراج نقشہ کےلئے واقفیت درکار ہے خواہ بعد سوال ہو یا بلاسوال تونفی سوال نفی علم کو مستلزم نہیں وقت نکاح کی گفتگو دن میں لوگوں کے تذکرہ سے اس نے بے دریافت کے سن لیا ہوگا کہ عصمت جہاں بیگم محلہ مدرسہ میں رہتی ہے بلکہ انصافًا تذکرہ مرد مان کی بھی حاجت نہیں پیشہ نکاح خوانی والے کو اکثر اہل شہرسے واقفیت ہوجاتی ہے اور عصمت جہاں بیگم کا باپ خود ایك مشہور آدمی تھا اس کانام اس وقت ضرور لیا گیا تھا کہ مسعود خاں کی بیٹی کا نکاح ہے جیسا کہ خود قاضی کے اظہار میں موجود ہے وہ جانتا تھا کہ مسعود خاں ساکن محلہ مدرسہ ہے لہذا عصمت جہاں بیگم کی سکونت مدرسہ اسے بلا دریافت معلوم ہوگئی۔محمد رضاخاں نے جب بحکم قاضی خانہ پری کی جس کا قاضی کو اعتراف ہے تو وہ خود قاضی کی خانہ پری تھی اور یہ کارروائی قاضی کی کارروائی ہوئی نہ کہ محمد رضاخاں کی،
|
فان فعل المامور یرجع الی الاٰمر لاسیما فیما لاتتعلق الحقوق |
کیونکہ مامور کا فعل آمر کی طرف راجع ہوتا ہے خصوصًا ان امور میں جہاں حقوق کا تعلق مامور سے نہیں ہوتا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع