دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 18 | فتاوی رضویہ جلد ۱۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۸

شفیع حیدر خاں سے یہ بھاری غلطی ہوئی کہ اس نے بتاشوں کو شیرینی کہا اسے کیا معلوم تھا کہ بتاشے کھٹے ہوتے ہیں،

اولًا:ذی علم مجوز نے سنا ہوگا کہ حسب رسم قدیم نکاح میں چھوہارے ضرور ہوتے ہیں پھر کہیں ان کے ساتھ شکر بھی ہوتی ہے،کہیں بتاشے چھوٹے کہیں بڑے،کہیں اور قسم کی مٹھائی اور شیرینی کا لفظ ان سب کو عام ہے،یہاں اگر چھوہارے اور بتاشے تقسیم ہوئے اور ایك گواہ نے ایك شے دوسرے نے دوسری کا خاص نام تیسرے نے عام ذکر کیا،کیا گناہ ہوا!

ثانیًا:بعض لوگ نکاح ختم ہوتے ہی معًا اٹھ جاتے ہیں اور خرموں کی تقسیم معًا ہوتی ہے ممکن کہ نظام الدین خاں بھی فورًا اٹھ گیا ہوا سکے سامنے خرما ہی تقسیم ہوئے تھے بعد کو بتاشے بٹے،وہ اس نے نہ دیکھے کہ انہیں بیان کرتا،بوستاں خاں شفیع حیدر خاں نے خرموں کی تقسیم کا ذکر ضروری جانا کہ وہ تو عادۃً تقسیم ہوتے ہی ہیں دوسری چیز جو تقسیم ہوئی اس کا بیان کیا اگرچہ وہ بھی محض بے ضرورت وزائد تھا۔

(۱۱)مہر میں بوستاں خاں نے قسم اشرفی نادر شاہی اور اس گواہ نے محمدشاہی بیان کی ہے حالانکہ شہادت ایك وقت اور جلسے کی ہے یہ دلیل ہے کہ گواہ مذکور شریك جلسہ نہ تھا۔

(۱۲)نیز گواہ نے تعداداشرفی کی خلاف دعوٰی مدعی کے بیان کی ہے مدعی نے اپنے بیان میں دس لکھایا ہے گواہ نے بیس،پس یہ شہادت کالعدم ہے،تمام اختلافات میں یہی دو اصل معاملہ نکاح سے کچھ متعلق ہیں کہ مہر بدل نکاح ہے مگر اگر کتب فقہ پر نظر فرمائی جاتی تو ظاہر ہوتا کہ مہر نکاح میں مقصود نہیں وہ محض تابع و زائد ہے،یہاں تك کہ عقد نکاح میں اگر نفی مہر کی شرط کرلی جائے نکاح صحیح ہوجائے گا اور مہر مثل لازم آئے گا تو ایسی چیز جس کا سرے سے ہونا نہ ہونا ہی اصل نکاح پر کچھ اثر نہیں ڈالتا اس کی کمی بیشی یا سکہ کے تفاوت سے کیا ضرر ہوسکتا ہے،لاجرم ہمارے امام رضی اﷲتعالٰی عنہ نے تصریح فرمائی کہ ایك گواہ ہزار روپے مہر بتائے اور دوسرا پندرہ سو،یا گواہ سو اشرفی مہر کہتے ہوں اور مدعی ڈیڑھ سو،یا مدعی ہزار دینار بتاتا ہو اور گواہ دو ہزار،سب صورتوں میں نکاح ثابت ہے،اور ان اختلافات سے گواہیوں یا دعوٰی پر کوئی برا اثر نہ پڑے گا۔ہدایہ وکافی وتبیین الحقائق وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:

واللفظ لھا فی النکاح یصح باقل المالین عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سواء کانت الدعوی من الزوج او من المرأۃ،ویستوی

الفاظ عالمگیری کے ہیں نکاح کے باب میں،امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے ہاں دو مذکور رقموں میں سے کم رقم پر نکاح درست قرار پائیگا دعوٰی مرد کا ہویا عورت کا اس میں بڑی رقم کا

 


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن