30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اوالمطلوب او المرکب اوقال احدھما کان معنا فلان وقال الاخر لم یکن معنا ذکر فی الاصل انہ یجوز ولا تبطل ھذہ الشہادۃ [1]۔ |
یاسواری پر تھے کہ متعلق مختلف بیان دیا،یا ایك نے کہا ہمارے ساتھ فلاں تھا اور دوسرے نے کہا نہیں تھا تو امام محمد نے اصل(مبسوط)میں فرمایا کہ یہ شہات جائز ہوگی باطل نہ ہوگی(ت) |
فتاوٰی قاعدیہ وفتاوٰی انقرویہ میں ہے:
|
قال الشہادۃ لو خالفت الدعوٰی بزیادۃ لایحتاج الی اثباتھا او بنقصان کذالك فان ذالك لایمنع قبولھا مثالہ لو شھدا علی اقرارہ بمال فقال اقرفی یوم کذا والمدعی لم یذکر الیوم او شھداولم یؤرخا والمدعی ارخ اوشھدا انہ اقر فی بلد کذاوقد اطلق المدعی او ذکر المدعی المکان ولم یذکراہ او ذکر المدعی مکانا وھما سمیا غیر ذٰلك المکان او قال المدعی اقر وھو راکب فرس او لابس عمامۃ وقال اقروھو راجل او راکب حما را و لا بس قلنسوۃ واشباہ ذٰلك فانہ لا یمنع القبول لان ہذہ الاشیاء لایحتاج الی اثباتھا فذکرہا والسکوت عنہا سواء کذا لو وقع مثلا ھذا التفوت فی الشھادتین لایضر[2]۔ |
انہوں نے فرمایا اگردعوٰی سے زائد کسی ایسے امر میں جو دعوٰی کے اثبات میں ضروری نہیں یا یوں ہی کسی کمی جس سے دعوٰی میں کوئی اثر نہیں پڑتا،میں گواہوں نے اختلاف کیا تو اس سے دعوٰی کو قبول کرنے میں کوئی ممانعت نہیں،مثلًا گواہوں نے بیان دیا کہ فلاں نے میرے پاس مال کا اقرار کیا گواہوں نے کہا فلاں روز اس نے اقرار کیا حالانکہ مدعی نے دعوٰی میں کسی دن کو ذکر نہ کیا،یوں ہی گواہوں نے اقرار کی تاریخ بیان نہ کی جبکہ دعوٰی میں تاریخ کا ذکر ہے،یایوں کہ گواہوں نے کہافلاں شہر میں اقرار کیا جبکہ مدعی نے کسی شہر کو ذکر نہ کیا ہو یا مدعی نے جگہ ذکرکی اور گواہوں نے جگہ کو ذکر نہ کیا،یا مدعی نے دعوٰی میں ایك جگہ ذکر کی گواہوں نے دوسری جگہ کو ذکر کیا،یا مدعی نے کہا اس نے گھوڑے پر سواری یا عمامہ پہنے ہوئے اقرار کیا جبکہ گواہوں نے پیدل یا گدھے پر سواری یا ٹوپی پہنے اقرار کا ذکرکیا،تو ایسے اختلاف سے دعوٰی کے مقبول ہونے میں ممانعت نہ ہوگی کیونکہ مذکورہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع